محتسب پنجاب کے 30 سال مکمل، لاہور میں عالمی کانفرنس

 مریم اورنگزیب نے شہری حقوق اور ادارہ جاتی اصلاحات میں محتسب کے کردار کو سراہا 
2025 میں 73 ہزار سے زائد شکایات، رواں سال بھی تعداد 60 ہزار سے متجاوز 
 لاہور(خصوصی رپورٹر) محتسب پنجاب کے دفتر کے قیام کے 30 سال مکمل ہونے پر لاہور میں بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں دنیا بھر سے محتسب اداروں، انسانی حقوق کے ماہرین اور مختلف ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔ کانفرنس میں احتساب، اچھی طرز حکمرانی، ڈیجیٹل تبدیلی اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ادارہ جاتی تعاون اور بہترین طریقہ ہائے کار کے تبادلے پر زور دیا گیا۔لاہور کے ایک ہوٹل میں منعقدہ کانفرنس کا موضوع ’’محتسب اداروں کا احتساب، گڈ گورننس اور شہریوں کے حقوق کے فروغ میں کردار‘‘ تھا۔ کانفرنس میں پاپوا نیو گنی، جنوبی افریقہ، ویسٹ کیمرون، زیمبیا، آذربائیجان، روس، ماریشس، کیمرون کے نارتھ ویسٹ ریجن، نائیجیریا، سوئٹزرلینڈ، اٹلی، یوکرین، انڈورا، ترکیہ، کرغزستان، مکاؤ، بحرین، تیمور لیستے اور فلپائن سمیت مختلف ممالک کے مندوبین شریک ہوئے۔کانفرنس سے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے غیر ملکی مندوبین کی شرکت پر ان کا شکریہ ادا کیا اور شہریوں کو مرکزِ نگاہ بنا کر گورننس اور ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے محتسب پنجاب کی کوششوں کو سراہا۔عائشہ حامد نے بتایا کہ محتسب پنجاب کے دفتر نے حال ہی میں انفارمیشن سکیورٹی کے حوالے سے ISO/IEC 27001:2022 سرٹیفکیشن حاصل کی ہے، جبکہ ادارے کے کمپلینٹ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (CMIS) کو گزشتہ سال ISO 9001:2015 سرٹیفکیشن ملی تھی۔انہوں نے کہا کہ یہ سرٹیفکیشنز عوامی خدمت کے معیار، ادارہ جاتی کارکردگی اور شفافیت میں بہتری کے لیے کی جانے والی مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہیں۔زیمبیا کی پبلک پروٹیکٹر کیرولین سی زولو نے افتتاحی خطاب میں شرکا کو خوش آمدید کہا اور محتسب پنجاب عائشہ حامد کی جانب سے دنیا بھر سے مندوبین کو مدعو کرنے کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ محتسب اداروں کے درمیان تجربات، معلومات اور بہترین طریقہ ہائے کار کا تبادلہ ادارہ جاتی ترقی اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے اہم ہے۔ ان کے مطابق کانفرنس مختلف ممالک کے اداروں کو ایک دوسرے سے سیکھنے کا مؤثر موقع فراہم کرے گی۔کانفرنس کے دوران محتسب اداروں کی کارکردگی، ڈیجیٹل تبدیلی اور ادارہ جاتی ترقی کے مختلف پہلوؤں پر تین پینل ڈسکشنز منعقد ہوئیں، جن میں ملکی اور غیر ملکی ماہرین نے اظہارِ خیال کیا