ایمرجنسی ،گورنرراج نہیں مذاکرات کو ایک اورموقع دیں :سربراہ جے یوآئی کی وزیر اعظم سے گفتگو
مذاکرات کا تیسرا دور ہونا چاہیے:علی محمد خان کی سپیکرسے بات چیت،ہم اب بھی تیار ہیں، :بیرسٹر گوہر
اسلام آباد(بیورو رپورٹ،مانیٹرنگ ڈیسک )وزیراعظم شہباز شریف اور سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، تفصیلات کے مطابق وزیراعظم نے مولانا فضل الرحمن سے رابطہ کیا اورخیبرپختونخوا کی صورتحال خصوصا پی ٹی آئی لانگ مارچ اور مذاکراتی ڈیڈلاک پر تبادلہ خیال کیا،ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمن نے ایک بار پھر موقف دہرایا کہ معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کیا جائے اور وہ اس سلسلے میں کردار ادا کرنے کو تیار ہیں، انہوں نے وزیراعظم کو ایمرجنسی اور گورنر راج سے گریز کا مشورہ دیا اور کہا کہ اس اقدام سے حکومتی جماعتوں کو سیاسی نقصان ہوگا،وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی معاملات کی بہتری کیلئے مذاکرات کو ایک اور موقع دیں ،ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے مولانا فضل الرحمن کی سیاسی بصیرت اور احتجاجی تحریک سے دورر ہنے کے فیصلے کی تعریف کی ،انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی ضد اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات سے دوری کی وجہ سے مسائل پیدا ہوئے، اب بھی وقت ہے کہ معاملات کے سلجھا نے کیلئے کے پی حکومت اور اپوزیشن معاملے کو سنجیدہ لے، وزیر اعظم نے کہا پی ٹی آئی کو سمجھنا ہوگا کہ لانگ مارچ اور مذاکرات بیک وقت نہیں چل سکتے، ملکی معیشت کیلئے وفاقی حکومت نے سر توڑ محنت کی اور ملکی معیشت کو مشکل حالات سے نکالا ہے معاشی، سیاسی اور داخلی استحکام چاہتے ہیں ،۔ادھر وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات میں فی الحال کسی بڑے بریک تھرو کی زیادہ امید نہیں تاہم حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان صورتحال اتنی پیچیدہ بھی نہیں کہ بات چیت کا راستہ مکمل طور پر بند ہوجائے۔ ایک انٹرویو میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات ختم ہونے کے بعد بھی رابطے رہے ہیں، محسن نقوی کے پی ٹی آئی رہنمائوں سے رابطے ہیں جبکہ گوہر خان، عامر ڈوگر اور اسد قیصر سے بھی فون پر بات چیت ہوتی رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا اپنا سیاسی موقف ہے اور حکومت کا اپنا ، تاہم کسی سمجھوتے یا مفاہمت کے بغیر مذاکرات دوبارہ شروع کرنا زیادہ مفید نہیں ہوگا، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور ان کے علاج کے معاملات پر انہوں نے کہا کہ یہ امور قانون اور جیل مینوئل کے مطابق طے ہونے چاہئیں۔)تحریک انصاف نے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے رابطہ کر لیا جبکہ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ ہم اب بھی بامقصد مذاکرات کیلئے تیار ہیں، امید ہے کہ مولانا فضل الرحمان مذاکرات میں اچھا کردار ادا کریں گے، پی ٹی آئی کے رہنما علی محمد خان نے پارلیمنٹ ہائوس میں سپیکر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کا تیسرا دور لازمی ہونا چاہیے، مذاکرات ہوں گے تو معاملات بہتری کی طرف جائیں گے، ہم چاہتے ہیں کہ مذاکرات کا تیسرا دور ہو تاکہ سیاسی تنائو میں کمی آسکے،علی محمد خان نے کہا کہ تمام سیاسی رہنمائوں کو اسلام آباد میں ہونا چاہیے تاکہ بات چیت کا عمل جاری رہے ، ہم چاہتے ہیں کہ سیاسی تنائو کا حل خون خرابے کے بغیر نکل آئے، اگر کہیں کوئی تعطل یا تنائو کی صورتحال ہے تو نقصان ہونے سے پہلے بات چیت ہو جانی چاہیے، یہ بہتر ہوگا ، ادھر چارسدہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ امید ہے کہ مولانا فضل الرحمن مذاکرات میں اچھا کردار ادا کریں گے ، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پی ٹی آئی ریاست کے ساتھ کھڑی ہے،گورنر راج یا ایمرجنسی لگانا مسئلے کا حل نہیں، سہیل آفریدی نے کبھی دہشت گردوں کی حمایت میں بیان نہیں دیا۔چیئر مین پی ٹی آئی نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کی گاڑیاں کچے میں پھنسی ہیں، انا ختم کریں، بیٹھ کر مذاکرات کریں ،ادھرلاہور ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ان کی جماعت کسی ایسے معاہدے کا حصہ نہیں بنے گی جو اصولوں کے منافی ہو، ایسے لائحہ عمل کا حصہ نہیں بنیں گے جس کے نتیجے میں بے گناہوں کا خون بہے یا لوگوں کو بے گھر ہونا پڑے،ہر قسم کی مصیبت جھیلنے کے لیے تیار ہیں، لیکن اصولوں سے دستبردار نہیں ہوں گے۔خیبر پختونخوا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے دعویٰ کیا کہ وہاں حکومت ختم ہوچکی ہے اور ڈپٹی کمشنر احکامات تسلیم نہیں کر رہا۔