امریکا اور اسرائیل کے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں نے عالمی کاروباری ماحول کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
اس تنازع کے باعث توانائی کی قیمتیں تیزی سے بڑھ گئیں، خام مال کی ترسیل میں رکاوٹیں پیدا ہو گئیں اور عالمی تجارتی راستوں کی حفاظت پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
توانائی اور خام مال کی قیمتوں میں اضافہ
جنگ کے سبب تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھ گئیں، جس سے عالمی صنعتوں پر دباؤ بڑھا۔آبنائے ہرمز میں کشیدگی کی وجہ سے ایلومینیئم اور دیگر دھاتوں کی فراہمی متاثر ہوئی، جس سے عالمی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھ گئیں۔
فضائی سفر اور ایئر لائنز
مشرقِ وسطیٰ کے فضائی راستے بند ہو گئے، جس سے تقریباً 40 ہزار پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں۔یئر لائنز کے لیے نقصان بہت بڑا ہے، جیٹ فیول کی قیمتیں تقریباً دگنی ہو چکی ہیں۔مسافر اور تجارتی سامان دونوں شدید متاثر ہوئے، کئی افراد لمبے زمینی سفر پر مجبور ہیں۔
سیاحت اور مقامی معیشت
دبئی اور ابوظبی کی سیاحت متاثر ہوئی، سیاحتی مراکز عارضی طور پر بند یا محدود عملے کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔خطے کی سالانہ تقریباً 367 ارب ڈالر آمدنی خطرے میں پڑ گئی ہے۔
دفاعی صنعت اور جدید اسلحہ
امریکا نے جنگ کے دوران جدید اسلحہ استعمال کیا: ٹام ہاک کروز میزائل، اسٹیلتھ طیارے، جدید ڈرونز۔مصنوعی ذہانت کے ٹولز (مثلاً انتھروپک کے AI سسٹمز) بھی جنگی کارروائیوں میں استعمال ہوئے۔
سپلائی چین اور فیشن صنعت
جنوبی ایشیاء کے بڑے فیشن مراکز (پاکستان، بھارت، بنگلادیش) کی مصنوعات کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔اسپین کی کمپنی انڈی ٹیکس (Zara کی مالک) کی کپڑوں کی کھیپ ایئرپورٹس پر رکی ہوئی ہے۔
ٹیکنالوجی اور سیمی کنڈکٹرز
جنوبی کوریا نے خبردار کیا ہے کہ جنگ کی طویل مدت سیمی کنڈکٹرز کے لیے ضروری ہیلیئم گیس کی سپلائی متاثر کر سکتی ہے۔بعض ڈرون حملوں میں ایمازون کے ڈیٹا سینٹرز کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جس سے خطے میں ٹیکنالوجی سرمایہ کاری پر اثر پڑ سکتا ہے۔
عالمی معیشت پر ممکنہ خطرات
جنگ کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے۔عالمی تجارت، فضائی سفر، توانائی کی قیمتیں، ٹیکنالوجی، فیشن اور دیگر صنعتیں شدید متاثر ہو سکتی ہیں۔