وزرا،ارکان پارلیمنٹ،اعلیٰ افسروں کی تنخواہوں، پٹرول میں کٹوتی
سرکاری اداروں میں ہفتہ وار 3چھٹیاں، 50فیصد گھرسے کام ہوگا
اسلام آباد(بیورو رپورٹ)وزیراعظم شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال اور توانائی کے ممکنہ بحران کے پیش نظر بچت کیلئے ہنگامی اقدمات کا اعلان کرتے ہوئے کہا پٹرول مزید مہنگا ہونے والاکوشش ہوگی عوام پر بوجھ نہ پڑے، وزیراعظم نے کفایت شعاری پالیسی کے تحت وزرا،ارکان پارلیمنٹ،اعلیٰ افسروں کی تنخواہوں اور پٹرول میں کٹوتی، بیرون ملک دوروں پر پابندی اور 2ہفتوں کیلئے تعلیمی ادارے بندکرنے کی منظوری دیدی۔وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے کو درپیش سنجیدہ اور پرخطر صورتحال پر آپ سے مخاطب ہوں، ایران اور مشرق وسطیٰ شدید جنگ کی لپیٹ میں ہیں، انسانی جانوں کا ضیاع، بے گھر ہونے والے خاندانوں کی تکلیف، امن کو لاحق خطرات گہری تشویش کا باعث ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کوشش کررہا ہے کہ معاملات سفارتی انداز سے حل ہوں، ہمیں افغانستان سے بھی دہشت گردی کا سامنا ہے، دراندازی پر جواب میں بہادر افواج، پرعزم اور بہادر سپہ سالار سید عاصم منیر کی قیادت میں وطن کی خودمختاری اور تحفظ اور شہریوں کی جانوں مال کو یقینی بنانے کا فریضہ ادا کررہی ہیں، جنہیں پوری قوم اور میں سلام پیش کرتا ہوں۔ ۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے حالیہ دنوں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دل پر پتھر رکھ کر کیا، اس حوالے سے میرا دل اور دماغ کشمکش میں تھا، دماغ کہتا تھا قیمت بڑھانے کے علاوہ کوئی حل نہیں، دل کہتا تھا غریب نہ پس جائے۔انہوں نے بتایا کہ مجھے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کہیں زیادہ اضافے کی تجویز دی گئی مگر ہم نے مشاورت کے بعد درمیانی راستہ نکالا تاکہ عوام پر بوجھ نہ پڑے۔انہوں نے کہا پاکستان کو مشکل معاشی حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے، ملک دیوالیہ ہونے والا تھا،ہم نے سیاسی فائدے کو پس پشت ڈالا اور ریاست و معیشت اور آپ کے مفاد کو ترجیح دی،مشکل فیصلوں میں آپ نے ہمارا بھرپور ساتھ دیا، صبر حوصلے کا مظاہرہ کیا،جس سے مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی آئی، پالیسی ریٹ آدھا ہوچکا ہے،روپے کی قدر مستحکم ہے، بجلی کی قیمتوں میں بھی عرق ریزی سے کمی لائی گئی ہے، یہ فرد واحد کی کامیابی نہیں بلکہ قوم کی دعائوں اور مشترکہ جدوجہد کا ثمر ہے،ایک بار پھر یقین دلاتا ہوں ہم ہر ممکن کوشش کریں گے کہ آپ پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے،گھر کے بزرگوں کی دوائی کیلئے پیسے کم پڑ جائے بچوں کے تعلیمی اخراجات کی فکر ہو تو کرب ہوتا ہے جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا، اگلے آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتیں مزید بڑھیں گی اور اضافہ لازم ہوگا،کوشش ہوگی تیل کی قیمتوں میں آئندہ اضافے کا بوجھ آپ پر نہ پڑے،دن رات مشاورت اور کاوشیں جاری ہیں،انشاء اللہ آپ کو مایوس نہیں کروں گا،اشرافیہ اور صاحب ثروت افراد، کڑے وقت میں قوم کا ساتھ دیں،اپنے دلوں میں خوف خدا پیدا کریں اور دکھی انسانیت کا ہاتھ تھامیں،ہماری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ غریب، محنت کش اور تمام لوگ رزق حلال کمانے والے ہمیشہ وطن کیلئے آگے بڑھ کر قربانی دی،اشرافیہ اور صاحب حیثیت لوگ آگے بڑھ کر کردار ادا کریں، بچت، عوامی، ریلیف اور کفایت شعاری اور سادگی کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے، آئندہ دو ماہ کیلئے سرکاری محکموں کی گاڑیوں کا 50 فیصد پٹرول کم کردیا ہے، ایمبولینس اور عوامی استعمال کی بسوں کا استثنیٰ ہوگا،تمام سرکاری محکموں کی 60 فیصد گاڑیوں کو بند کیا جارہا ہے،دو ماہ کیلئے کابینہ اراکین، وزرا، مشیران اور معاونین تنخواہ نہیں لیں گے، اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 25 فیصد کٹوتی ہوگی، 3لاکھ سے زائد تنخواہ والے گریڈ 20 اور اوپر کے افسروں کی دو دن کی تنخواہ کاٹ کر عوامی ریلیف کیلئے استعمال کی جائے گی، تمام سرکاری محکموں کے تنخواہوں کے علاوہ اخراجات میں 20 فیصد کمی کی جارہی ہے،سرکاری محکموں میں گاڑیوں، فرنیچر، ایئرکنڈیشنر دیگر اشیا کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے،وفاقی وزرا، مشیران اور دیگر کے بیرون ملک دوروں پر پابندی عائدکی گئی ہے، ناگزیر دوروں کی اجازت ہوگی، یہ پابندی وزیر اعظم، وزرائے اعلٰی، صوبوں کے گورنرز پر بھی عائد ہو گی، آن لائن میٹنگ کو ترجیح دی جائے گی تاکہ ایندھن کی بچت ہوسکے، سرکاری عشائیوں اور افطار پارٹیز پر مکمل پابندی عائد کی جارہی ہے،سرکاری اخراجات میں کمی کیلئے سیمینارز اور کانفرنسز ہوٹلز کے بجائے سرکاری دفاتر میں ہوں گی، ایندھن اور توانائی کی بچت کیلئے اہم فیصلے کیے گئے ہیں، انتہائی ضروری سروسز کو چھوڑ کر باقی تمام جگہوں پر 50 فیصد سٹاف گھر سے کام کرے گا،ہفتے میں 4 دن دفاتر کھلیں گے،ایک اضافی چھٹی کا اطلاق بینکوں پر نہیں ہوگا، ‘‘قبل ازیں وزیراعظم کی زیر صدارت قومی کفایت شعاری پالیسی کی منظوری کیلئے اجلاس ہوا، اجلاس میں چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر کو بھی مدعو کیا گیا، وزیراعظم نے جنگی صورتحال کے باعث کفایت شعاری کے اضافی اقدامات کی منظوری دے دی۔نئی پالیسی کا اطلاق تمام وزارتوں، محکموں، خود مختار اداروں، عدلیہ اور پارلیمنٹ میں یکساں لاگو ہوگا، حکومت نے جون 2026ء تک نئی پائیدار اشیا کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے، آئی ٹی خریداری صرف این آئی ٹی بی کی جانچ اور آسٹریٹی کمیٹی کی منظوری کے بعد ممکن ہوگی۔غیر ملکی سرکاری دوروں پر پابندی کا اطلاق وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تمام عہدے داروں پر ہوگا۔ ناگزیر سرکاری دوروں کے سوا کسی بھی قسم کے بیرونِ ملک سرکاری سفر کی اجازت نہیں ہوگی، بیرونِ ملک سفر کی صورت میں تمام حکومتی عہدے دار صرف اکانومی کلاس میں سفر کریں گے، یہ پابندی سرکاری یا ڈونر فنڈنگ سے ہونے والے تمام دوروں پر لاگو ہوگی۔ایندھن کی کمی سرکاری بسوں، ایمبولینس، موٹر بائیکس وغیرہ جیسی آپریشنل گاڑیوں کیلئے نہیں ہوگی، ایندھن کی کمی سے وفاقی سطح پر ساڑھے چار ارب روپے کی بچت متوقع ہے۔حکومت کا رائٹ سائزنگ پروگرام جاری رکھنے کا فیصلہ ہے، آئندہ بجٹ میں حقیقی مالی بچت کے اہداف مقرر کیے جانے کا امکان ہے، اخراجات کم کرنے کے لیے ٹیلی کانفرنسنگ اور ورچوئل میٹنگز کو فروغ دیا جائے گا، سرکاری ضیافتوں پر پابندی عائد ہوگی صرف غیر ملکی وفود کے اعزاز کے لیے استثنیٰ حاصل ہوگا۔سرکاری سیمینارز، ٹریننگز اور کانفرنسز سے قبل خصوصی کمیٹی کی منظوری لازمی ہوگی، کمیٹی تقریب کی ضرورت اور ترجیح کا جائزہ لے گی، ایسی تقریبات کے لیے حکومتی آڈیٹوریم اور سرکاری سہولیات استعمال کرنے کی ہدایت کردی گئی۔ غیرترقیاتی بجٹ میں بیس فیصد کٹوتی سے وفاقی سطح پر 22 ارب روپے کی بچت متوقع ہے