آئندہ بجٹ میں روزمرہ اشیاء پر اضافی ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز

آئندہ بجٹ میں روزمرہ اشیاء پر اضافی ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز

آئندہ مالی سال 2025-26 کے لیے مجوزہ وفاقی بجٹ میں حکومت نے متعدد اشیائے صرف پر اضافی ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجاویز پر غور شروع کر دیا ہے۔

 بجٹ کا مجموعی حجم 17 ہزار 600 ارب روپے رکھا گیا ہے، جو آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق، حکومت کا مقصد ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا اور آمدن میں اضافہ کرنا ہے، جس کے تحت روزمرہ استعمال کی کئی مصنوعات کو ٹیکس نیٹ میں لانے یا ان پر موجود ٹیکس میں اضافہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

مجوزہ ایکسائز ڈیوٹیز:
فروزن فوڈز (Frozen Foods) پر 5 فیصد اضافی ایکسائز ڈیوٹی
چپس اور کولڈ ڈرنکس پر 5 فیصد ایکسائز ڈیوٹی
نوڈلز، آئس کریم اور بسکٹس پر 5 فیصد ایکسائز ڈیوٹی
فروزن گوشت، ساسز اور تیار شدہ خوراک پر بھی 5 فیصد ایکسائز ڈیوٹی لگانے کی تجویز
یہ اقدامات صارفین پر مہنگائی کا مزید بوجھ ڈال سکتے ہیں، خاص طور پر متوسط اور شہری طبقے پر۔

ای کامرس پر بھی ٹیکس عائد کرنے کی تجویز:
بجٹ تجاویز میں ایک بڑی تبدیلی ای کامرس سیکٹر کو بھی ٹیکس نیٹ میں شامل کرنا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آن لائن خرید و فروخت پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز شامل ہے، جو ڈیجیٹل معیشت پر براہِ راست اثر ڈالے گی۔

بجٹ کی اہم خصوصیات:
کل حجم: 17,600 ارب روپے
ترجیحات: محصولات میں اضافہ، آئی ایم ایف کے اہداف کی تکمیل، اور خسارے میں کمی
متوقع اثرات: اشیائے خوردونوش مہنگی ہونے کا امکان، آن لائن کاروبار متاثر ہو سکتے ہیں
واضح رہے کہ یہ تمام تجاویز منظوری کے بعد ہی نافذ العمل ہوں گی، اور بجٹ بحث کے دوران ان میں ردوبدل کا امکان بھی موجود ہے۔

عوامی ردعمل:
عوامی اور تجارتی حلقوں کی جانب سے ان تجاویز پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پہلے سے موجود مہنگائی کے تناظر میں ان ٹیکسوں کا نفاذ عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ کرے گا۔

پارلیمانی منظوری:
وفاقی وزیر خزانہ آج قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کریں گے، جس کے بعد بجٹ پر تفصیلی بحث اور پھر منظوری کا عمل مکمل کیا جائے گا۔