ویب ڈیسک: افغانستان کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا مطالبہ اب جنوبی افریقہ میں بھی سامنے آیا ہے، جس کے بعد آسٹریلیا اور برطانیہ کے بعد جنوبی افریقہ کے وزیر کھیل گیٹن میکنزی نے بھی اس مطالبے کی حمایت کی ہے۔ چیمپئنز ٹرافی کے شیڈول میں افغانستان کے خلاف میچز کا بائیکاٹ کرنے کی بات کی گئی ہے۔
جنوبی افریقہ کے وزیر کھیل گیٹن میکنزی نے کہا کہ وہ عوامی مطالبے کی حمایت کرتے ہیں اور اپنی کرکٹ ٹیم سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اخلاقی طور پر افغانستان کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کریں۔ انہوں نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ اپنے قوانین کی پاسداری میں ناکام ہو رہا ہے۔میکنزی نے اس بات پر زور دیا کہ طالبان حکومت نے خواتین پر کھیلوں سمیت دیگر شعبوں میں پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، اور خواتین کی قومی کرکٹ ٹیم کو بھی ختم کر دیا ہے، اس لیے ان کے لیے اخلاقی طور پر اس میچ کا بائیکاٹ کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر یہ ان کے اختیار میں ہوتا، تو وہ جنوبی افریقا کی ٹیم کو افغانستان کے خلاف کرکٹ میچ کھیلنے سے روکتے۔انہوں نے آئی سی سی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آئی سی سی افغانستان کے معاملے میں سیاسی مداخلت کو برداشت کر رہا ہے اور اس کی جانب سے کوئی کارگر اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی افریقہ خواتین کرکٹ کو خود مختار بنانا چاہتا ہے اور اس بارے میں دیگر ممالک اور آئی سی سی کو بھی سوچنا ہوگا کہ وہ خواتین کے حقوق کے لیے کتنی آواز اٹھاتے ہیں۔
میکنزی نے امید ظاہر کی کہ کرکٹ کی دنیا کے تمام افراد، بشمول کھلاڑی، منتظمین اور سپورٹرز، افغانستان کی خواتین کے ساتھ یکجہتی کے لیے مضبوط موقف اختیار کریں گے۔پیر کے روز برطانیہ کے 160 سے زائد سیاست دانوں نے بھی خواتین کے حقوق کی پامالی اور پابندیوں کے خلاف انگلینڈ کے افغانستان کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ آسٹریلیا میں بھی افغانستان کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کی آوازیں اُٹھی ہیں، جس پر کینگروز نے اپنے دونوں شیڈول میچز نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم ابھی تک کسی بھی ملک کی جانب سے حتمی فیصلہ نہیں آیا۔