سمیع اللہ ملک (پہلی قسط)
یہ تاریخ کااٹل فیصلہ ہے کہ کچھ رشتے زمانے کے کٹہرے میں تولے نہیں جاتے،وہ زمانے کوتولتے ہیں۔کچھ تعلقات سفارت خانوں کی فائلوں میں نہیں پلتے،وہ دلوں کی دھڑکنوں میں زندہ رہتے ہیں۔تاریخِ اقوام میں کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جومحض معاہدوں،مفادات یا سفارتی بیانات کے مرہونِ منت نہیں ہوتے،بلکہ وہ ایمان،تہذیب،قربانی اور مشترکہ مقدس اقدارکے تاروں سے بنے جاتے ہیں۔پاکستان اورسعودی عرب کاتعلق بھی انہی نادررشتوں میں شمارہوتا ہے ایک ایسا تعلق جس کی بنیادکاغذپرلکھی سطروں سے نہیں بلکہ دلوں میں ثبت عقیدت سے رکھی گئی ہے۔پاکستان اورسعودی عرب کاتعلق بھی اسی قبیل کارشتہ ہے،ایسارشتہ جومعاہدوں سے پہلے وجودمیں آیااورمعاہدوں کے بعدبھی ایمان کی طرح باقی رہے گا۔
حرمین شریفین کی حفاظت وہ مرکزہے جہاں پاکستان کے اجتماعی شعور،قومی غیرت اورایمانی حمیت ایک نقطے پرآکرسمٹ جاتے ہیں۔جب مکہ ومدینہ کانام لیاجاتا ہے توپاکستان کے طول وعرض میں صرف لب جنبش نہیں کرتے،دل بھی لرزاٹھتے ہیں۔حرمین شریفین کی حفاظت کسی ریاستی پالیسی کاباب نہیں بلکہ ہرپاکستانی کے ایمان کاحصہ ہے۔یہ محض ایک سفارتی مقف نہیں بلکہ ہرپاکستانی کے دل میں موجزن وہ عہدہے جس کے تحت حرمِ مکہ ومدینہ کی طرف اٹھنے والی ہرمیلی آنکھ کے مقابل اپنی جان قربان کرناایمان کا عین تقاضاسمجھا جاتاہے۔
حرمین شریفین کی حفاظت کسی ریاستی پالیسی کاباب نہیں بلکہ ہرپاکستانی کے ایمان کاحصہ ہے۔یہ وہ مقدس امانت ہے جس کیلئیجان دیناقربانی نہیں،سعادت سمجھی جاتی ہے؛اورجس پرآنچ آجائے توپاکستان کاہرفردسپاہی بن جاتاہیبغیروردی،بغیرحکم،صرف ایمان کے بل پر۔ایسے میں جب پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کی بات ہوتی ہے تووہ محض طیاروں،ہتھیاروں یامالی معاملات کی گفتگو نہیں رہتی،بلکہ ایک عہدکی تجدیدبن جاتی ہیوہ عہدجوخونِ شہدا،دعاں،اورقبل اول وثانی کی حرمت سے بندھاہواہے۔
اسی تاریخی،ایمانی اورتہذیبی پس منظرمیں جب پاکسعودی دفاعی تعاون کی بات کی جاتی ہے تووہ محض اسلحہ،طیاروں یامعاہدوں کی گفتگو نہیں رہتی،بلکہ ایک مشترکہ اسلامی دفاعی شعور کی جھلک بن جاتی ہے۔جے ایف۔17تھنڈرجیسے دفاعی منصوبے اسی بڑے تناظرمیں اپنی معنویت پاتے ہیںیہ صرف ایک جنگی جہازنہیں بلکہ اعتماد،خودمختاری اوربرادرانہ انحصار کی علامت ہے۔عالمی سیاست کے بدلتے ہوئے منظرنامے میں،جہاں طاقتیں مفادات کے ترازومیں دوستی تولتی ہیں اوروعدے ضرورت کے موسم تک محدود رہتے ہیں، پاکستان اورسعودی عرب کاتعلق ایک اخلاقی استثنابن کرابھرتاہے۔
جے ایف۔17تھنڈرجیسے دفاعی منصوبے اسی عہدکی جدیدتعبیرہیںیہ فولادسے بنے پرندے نہیں بلکہ اعتماد،خودداری اورمشترکہ دفاعی شعور کے اڑتے ہوئے استعارے ہیں لیکن تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ جب بھی امتِ مسلمہ نے ایک قدم اتحادکی طرف بڑھایا ،دشمن طاقتیں اضطراب میں مبتلاہوگئیں۔آج بھی سوال یہی ہے:کیامسلم دنیاکے دل ایک ساتھ دھڑکنے دیے جائیں گے؟کیااس ابھرتے ہوئے اسلامی دفاعی اشتراک کووہ قوتیں پنپنے دیں گی جومسلم دنیاکے کسی بھی مشترکہ قدم کواپنے مفادات کیلئے خطرہ تصورکرتی ہیں؟ اورکیاوہ قوتیں،جومسلم اتحادکواپنے مفادات کیلئے خطرہ سمجھتی ہیں،اس ابھرتی ہوئی یکجہتی کوخاموشی سے قبول کرلیں گی؟کیاپاکستان اورسعودی عرب کایہ دفاعی اشتراک صرف ایک معاہدہ رہے گا،یاامتِ مسلمہ کے اجتماعی تحفظ کی بنیادبنے گا؟اسی سوال کے گردیہ تحقیقی مطالعہ گردش کرتاہے جہاں دفاعی حکمتِ عملی،عالمی سیاست،اورامتِ مسلمہ کے اجتماعی مستقبل کے خدوخال باہم گتھے ہوئے نظر آتے ہیں۔
سعودی جدید فضائی طاقت کے ہوتے ہوئے کیاجے ایف۔17کی ضرورت ہے؟یہ تزویراتی سوال بظاہرسادہ مگرباطن میں نہایت عمیق ہے کہ جدیدترین لڑاکا طیاروں کے انبار کے باوجودکیاسعودی عرب کوجے ایف۔17تھنڈرجیسے طیارے کی حاجت محسوس ہوسکتی ہے؟عسکری تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ محض طاقت کاانبارہی دفاع کی ضمانت نہیں ہوتا،بلکہ توازن،خودمختاری اورحکمتِ عملی وہ عناصرہیں جواقوام کی سلامتی کااصل زادِراہ بنتے ہیں۔بین الاقوامی دفاعی مطالعات میں یہ اصول تسلیم شدہ ہے کہ کسی ریاست کی عسکری ضروریات کاتعین صرف اس کے موجودہ ہتھیاروں کیبرتریسے نہیں بلکہ تزویراتی خودمختاری،لاگت،رسد،اورسیاسی انحصارسے ہوتاہے۔ سعودی عرب کے پاس اگرچہ دنیاکے جدیدترین لڑاکاطیارے موجودہیں،تاہم جے ایف۔17تھنڈرجیسے4.5جنریشن طیارے کی ممکنہ شمولیت کومحض تکنیکی موازنہ کی سطح پردیکھنا تحقیقی سطحی پن ہوگا۔اصل سوال یہ ہے کہ آیاریاض اپنے فضائی دفاع کوتنوع اور سیاسی لچک دیناچاہتاہے۔
بنگلہ دیش کی جانب سے جے ایف۔17تھنڈرمیں دلچسپی کے اظہارکے بعدذرائع ابلاغ میں یہ سرگوشیاں بھی گونجنے لگیں کہ حرمین شریفین کاامین،سعودی عرب بھی اس پاکستانی ساختہ طیارے کی طرف متوجہ ہے۔گویاعالمی مارکیٹ میں جے ایف 17لڑاکاطیارہ کی ساکھ کوتقویت ملی ہے۔اسی تناظرمیں سعودی عرب کی مبینہ دلچسپی کودفاعی سفارت کاری کے ایک نئے باب اورنئے زاویہ کے طور پردیکھاجارہاہے۔
پاکستانی ذرائع کے مطابق ریاض،اسلام آبادکودیے گئے دوارب ڈالرکے قرض کودفاعی معاہدے،خصوصاجے ایف۔17تھنڈرکی خریداری میں تبدیل کرنے پرغورکررہاہے گویا دوارب ڈالرکے قرض کودفاعی معاہدے میں بدلنے کی تجویزاس امرکی علامت ہے کہ دفاع اب محض عسکری نہیں بلکہ مالی وسفارتی آلے کے طورپربھی استعمال ہورہاہے۔یوں لگتا ہے جیسے سفارت اوردفاع ایک ہی کشتی کے دومسافر بن گئے ہوں۔
ترجمان دفترِخارجہ پاکستان نے حسبِ روایت احتیاط کادامن تھامتے ہوئے کہاکہ پاکستان اورسعودی عرب دفاع سمیت کئی شعبوں میں تعاون کرتے ہیں،تاہم کسی مخصوص پلیٹ فارم یامالی ایڈجسٹمنٹ سے متعلق علم نہیں۔مگراسی خاموشی میں سوالات نے جنم لیاکیا سعودی عرب،جس کے پاس پہلے ہی جدیدترین مغربی طیارے موجود ہیں،پاکستان کے جے ایف۔17میں کیوں دلچسپی لے گا؟اورجب امریکاایف۔35جیسے جدیدترین جہازدینے پرآمادہ ہے توپھریہ کشش کیوں؟
دفترخارجہ پاکستان کامحتاط مقف اس بات کی عکاسی کرتاہے کہ اس نوعیت کے معاہدے اسٹریٹجک ابہام کے اصول کے تحت رکھے جاتے ہیں۔تاہم بھارت اورپاکستان میں یہ سوال شدت سے اٹھایاجارہاہے کہ کیاسعودی عرب واقعی جے ایف۔17جیسے طیارے کی ضرورت محسوس کرتاہے؟جب ایف۔35دستیاب ہوسکتاہے تومتبادل کیوں؟یہ سوالات دراصل مغربی عسکری اجارہ داری پرعدم اعتماد کے بڑھتے ہوئے رجحان کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
ان سوالات کیجواب سیقبل ضروری ہے کہ ہم سعودی فضائی قوت کے موجودہ خدوخال اورجے ایف۔17کی فنی وحربی خصوصیات کاغیرجانبدارانہ جائزہ لیں،جوجذبات کی بجائے حقائق کی بنیادپرہواورتحقیقی دیانت کابھی تقاضاہے کہ کسی بھی نتیجے سے قبل سعودی فضائیہ کی موجودہ ساخت اورجے ایف۔17کی تکنیکی،عملی اورلاجسٹک خصوصیات کاتقابلی مطالعہ کیاجائے،نہ کہ محض نسلی درجہ بندی پرانحصارکیاجائے۔
سعودی فضائیہ کے تاجِ زریں میں یوروفائٹرٹائی فون سرفہرست ہیںاس کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کافضائی بیڑاایف۔15ایس/سی، اورٹورناڈوآئی ڈی ایس جیسے طاقتور طیاروں پرمشتمل ہے۔پانچ اعشاریہ چارجنریشن کے یہ ملٹی رول جہازبرق رفتاری،جدیدسینسرز اورمہلک وارکی صلاحیت رکھتے ہیں۔اس کے ساتھ ایف۔15ایس اورایف۔ 15 سی جیسے چوتھی جنریشن کے طیارے بھی موجودہیں،جن کی قوتِ ضرب سے فضائیں لرزتی ہیں۔برطانیہ واٹلی کے مشترکہ شاہکارٹورناڈوآئی ڈی ایس بھی اس بیڑے کاحصہ ہیں ،جبکہ ہیلی کاپٹرز،ایئرٹینکرزاورتربیتی جہازالگ داستان سناتے ہیں۔یہ جہازتکنیکی لحاظ سے بے مثال ہیں،مگرمکمل طورپرمغربی سپلائی چین پرانحصارکرتے ہیں۔اپ گریڈ، اسپیئر پارٹس اورسافٹ ویئر کنٹرول بیرونی ہاتھوں میں ہے۔یہی وہ نکتہ ہے جہاں عسکری برتری سیاسی کمزوری میں بدل سکتی ہے۔(جاری ہے)