سمیع اللہ ملک (آخری قسط)
نومبرمیں ٹرمپ نے ففتھ جنریشن سٹیلتھ ایف۔35طیارے سعودی عرب کودینے کی آمادگی ظاہرکییہ وہ جہازہے جسے جدیدفضائی جنگ کااستعارہ سمجھاجاتاہے۔انتہائی مہنگا،مکمل امریکی کنٹرول میں ڈیٹااورآپریشنل خودمختاری محدود۔مگراس کے برعکس اس کے مقابل جے ایف۔17تھنڈربلاک تھری،اگرچہ ففتھ جنریشن نہیں،مگراے ای ایس اے ریڈار، لانگ رینج بی وی آرمیزائلزاور4.5جنریشن ملٹی رول صلاحیت کے ساتھ ایک متوازن اورمثرپلیٹ فارم ہے،جومحدودوسائل میں زیادہ نتائج دینے کی صلاحیت رکھتاہے۔کم لاگت ، زیادہ دستیابی، قابلیت بمقابلہ کنٹرول کے مثرفرق کے بنیادی تصورکوواضح کرتاہے۔انہی خصوصیات کی بناپرتمام دفاعی ماہرین موجودہ دورکیلئے اسے ایک بہترین نعم البدل کے طورپرانتہائی موزوں سمجھتے ہیں۔
پاکستان اس طیارے کوآذربائیجان،میانماراورنائجیریاکوفروخت کرچکاہے،جبکہ عراق اورلیبیا کے ساتھ معاہدے طے پاچکے ہیں۔یہ معاہدے اس بات کاثبوت ہیں کہ جے ایف17محض نظریاتی نہیں بلکہ عملی،آزمودہ اورقابلِ برآمدپلیٹ فارم ہے۔وزیردفاع خواجہ محمد آصف کے بقول،انڈیاکے ساتھ جنگ میں ان طیاروں کی عملی آزمائش اورجنگی ساکھ ثابت ہوچکی ہے،اور طلب کی یہ کیفیت ہے کہ شایدپاکستان کومستقبل قریب میں آئی ایم ایف کی دہلیزپربھی نہ جاناپڑے۔ سوال یہ ہے کہ کیااسی کامیابی کی بازگشت ریاض تک پہنچی ہے؟
اگرچہ دونوں ممالک نے کسی معاہدے کی تصدیق یاتردیدنہیں کی،مگردفاعی ماہرین کے نزدیک پاکستان اورچین کے اشتراک سے تیار کردہ یہ طیارہ سعودی عرب کیلئے ایک قابلِ عمل آپشن ہوسکتاہیجے ایف۔17پاکستان اورچین کے اشتراک کانتیجہ ہے،جوسعودی عرب کوچین کے ساتھ بالواسطہ دفاعی قربت اورامریکاکے متبادل سپلائی چین فراہم کرسکتاہے۔ خصوصاایسے وقت میں جب عالمی سیاست میں اتحادعارضی اورمفادات مستقل ہوتے جارہے ہیں۔یہ نکتہ سعودی خارجہ پالیسی میں کثیرالقطبی رجحان سے ہم آہنگ ہے۔
دفاعی ماہرین یاددلاتے ہیں کہ کسی بھی طیارے کی خریدمحض نام یاطاقت پرنہیں،بلکہ ضرورت،ہتھیاروں کی ہم آہنگی،لاگت،اور سپلائرکے اعتمادپرہوتی ہے۔دفاعی ماہرین کے مطابق کسی بھی خریداری میں چارعناصربنیادی ہوتے ہیں۔مشن کی ضرورت،ہتھیاروں کی مطابقت لاگت اورمینٹیننس،سپلائرکی سیاسی ساکھ۔ پاکستان ان چاروں میں جہاں ایک
کم خطرہ کے طورپرابھرتاہے وہاں ایک قابلِ اعتمادشراکت دارکے طورپرابھراہے،جہاں سپلائی میں سیاسی دباؤیاغیرمتوقع رکاوٹوں کااندیشہ کم ہے۔ اس کے برعکس مغربی طاقتیں اکثردفاعی سازوسامان کودباکے آلے کے طورپراستعمال کرتی ہیںکبھی اپ گریڈروک لیاجاتاہے، کبھی اسپیئرپارٹس بندکردیے جاتے ہیں۔ٹرمپ جیسے غیرمتوقع فیصلوں اور پالیسیوں کے حامل رہنماں کے دورمیں یہ بے یقینی مزید بڑھ گئی ہے،اورعدم اعتمادکومزیدگہراکردیاہے جس نے بیشترممالک کومتبادل راستے سوچنے پرمجبورکردیاہے۔
ایئر یونیورسٹی سے وابستہ دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان حالیہ دفاعی معاہدہ اس امرکی علامت ہو سکتاہے کہ دونوں ممالک مشترکہ سسٹمزاپناناچاہتے ہیں۔بدلتی ہوئی عالمی سیاست،خصوصاامریکاکے رویے نے کئی ممالک کواسلحہ جاتی تنوع کی طرف دھکیل دیاہے،تاکہ کسی ایک طاقت پرانحصارمہلک ثابت نہ ہو۔ماہرین کے مطابق مشترکہ دفاعی معاہدوں کامقصد انٹرآپریبلٹی،تربیت میں ہم آہنگی اورہنگامی حالات میں تعاون ہوت ہے۔جے ایف۔17اس تناظرمیں ایک موزوں انتخاب بن سکتا ہے ۔
برمنگھم یونیورسٹی کے ماہرین کے نزدیک اگریہ معاہدہ طے پاجاتاہے تویہ جے ایف۔17،پاکستان کے دفاعی صنعتی ڈھانچے اورقومی معیشت کیلئیسنگِ میل ہوگا۔بعض مغربی تجزیہ کاروں کے مطابق سعودی عرب یہ طیارے براہِ راست استعمال کی بجائے کسی اتحادی ملک(مثلاسوڈان)کومنتقل کرسکتاہے جہاں داخلی سلامتی کے مسائل شدت اختیارکررہے ہیں۔یہ خطے میں پراکسی اسٹیبلائزیشن کی حکمت عملی ہوسکتی ہے۔آخرکاردفاعی ماہرین اس نتیجے پرپہنچتے ہیں کہ جے ایف۔17تھنڈرکئی حوالوں سے سعودی عرب کوسوٹ کرتاہے۔ یہ جہازامریکاپر انحصارکم کرنے کاذریعہ بن سکتاہے،اورسعودی خودمختاری میں اضافہ کاباعث بن سکتاہے۔جنگ میں آزمودہ پلیٹ فارم حاصل کرنے اورکم لاگت میںمؤثردفاع کاذریعہ بن سکتاہے اوراس کی تربیت پاکستانی فضائیہ فراہم کرسکتی ہے۔ یوں یہ محض ایک جہازنہیں، بلکہ اعتماد،خودمختاری اورآزمودہ صلاحیت کااستعارہ بن کرابھرتاہے۔
تاریخ کے افق پرایک حقیقت سورج کی طرح روشن ہے کہ مسلم دنیاکی کمزوری اس کے وسائل کی کمی نہیں،اس کی اصل آزمائش اس کاانتشاررہاہے۔یہ حقیقت تاریخ کے اوراق میں بارہالکھی جاچکی ہے کہ جب بھی مسلم دنیا نے باہمی اتحاد،خودانحصاری اور مشترکہ دفاع کی طرف قدم بڑھایا،اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کردی گئیں۔جب بھی اس انتشار کے خلاف کوئی آوازاٹھی،جب بھی کسی نے خود انحصاری اورمشترکہ دفاع کاخواب دیکھا،سازشوں کے بادل امڈآئے،خدشات کی سرگوشیاں پھیل گئیں،اورخوف کے بیج بودیے گئے۔
آج بھی جب پاکستان اورسعودی عرب کے مابین دفاعی تعاون ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے کے امکانات ظاہرکررہاہے،تومسلم دشمن قوتوں کی تشویش محض اتفاق نہیں۔آج پاکستان اورسعودی عرب کے دفاعی تعلقات پراٹھنے والی تشویشیں اسی تسلسل کی کڑیاں ہیں۔اسرائیل کی بے چینی،امریکی نظامِ دفاع کی اجارہ داری،اورمغربی میڈیاکافکری اضطراب یہ سب اس بات کااعلان ہیں کہ امتِ مسلمہ کاایک قدم بھی اگرخودداری کی سمت بڑھ جائے توطاقت کے ایوانوں میں ارتعاش پیداہوجاتاہے۔
اسرائیل کی جانب سے سعودی عرب کوجدیدامریکی طیاروں کی فراہمی پرکھلے اضطراب کااظہاردراصل اسی خوف کی علامت ہے کہ کہیں مشرقِ وسطی اورجنوبی ایشیامیں ایک ایسا دفاعی محورنہ تشکیل پاجائے جومغربی اجارہ داری کوچیلنج کردے۔مگریہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جے ایف۔17تھنڈرمحض ایک جنگی طیارہ نہیںیہ ایک پیغام ہے۔یہ پیغام ہے کہ مسلمان اب اپنی سلامتی کے فیصلے خودکرناچاہتے ہیں۔یہ اعلان ہے کہ حرمین شریفین کے تحفظ کاعزم کسی ایک ریاست تک محدودنہیں،بلکہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے جسے فولاد ، ایمان اوراتحادسے سینچاجارہاہے۔
جے ایف۔17تھنڈرکاممکنہ سعودی فضائی بیڑے میں شامل ہونا،یااس سے جڑے کسی بھی دفاعی انتظام کی صورت،محض ایک تکنیکی فیصلہ نہیں بلکہ ایک سیاسی،تہذیبی اورایمانی اعلان ہوگاکہ مسلم دنیااب اپنی سلامتی کے فیصلے خودکرناچاہتی ہے،اوروہ دوسروں کی اجازت یادباؤ کی محتاج نہیں۔پاکستان کیلئے یہ شراکت محض معاشی یاصنعتی کامیابی نہیں بلکہ اس تاریخی ذمہ داری کی توسیع ہے جواس نے اپنے قیام کے وقت سے اوڑھ رکھی ہے،حرمین شریفین کے تحفظ کواپنی سلامتی سے مقدم جاننے کی ذمہ داری۔پاکستان کیلئے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی اشتراک محض ایک کامیاب معاہدہ نہیں بلکہ اس وعدے کی تجدیدہے جواس قوم نے اپنے قیام کے دن کیاتھاکہ حرمین شریفین کی طرف اٹھنے والے ہرخطرے کے مقابل سینہ سپرہوناہماری قومی شناخت اورایمانی فریضہ ہے۔تاہم یہ راہ آسان نہیں۔
اب سوال یہ نہیں کہ یہ اتحادکیوں ضروری ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیاامتِ مسلمہ اس تاریخی موقع کوپہچانے گی؟کیاعالمِ اسلام اپنی صفوں میں وحدت پیداکرپائے گا؟کیایہ دفاعی تعاون ایک نئے مشترکہ اسلامی دفاعی نظام کاپیش خیمہ بنے گا؟کیایہ دفاعی تعاون محض محدود معاہدوں تک رہے گایاامتِ مسلمہ کیلئیایک مشترکہ دفاعی نظام کی بنیادبنے گا؟اورکیا مسلم دشمن قوتیں اس اتحادکوروکنے میں کامیاب ہو سکیں گی؟اور سب سے بڑھ کر،کیاوہ قوتیں جومسلم اتحادکواپنے مفادات کیلئیخطرہ سمجھتی ہیں،اس خواب کوتعبیر پانے دیں گی؟
ان سوالات کے جواب مستقبل کے دریچوں میں پوشیدہ ہیں،تاریخ گواہ ہے جب ایمان،حکمت اوراتحادایک صف میں آکھڑے ہوںتو کوئی طاقت،کوئی سازش،کوئی دبااس صف کومنتشرنہیں کرسکتامگرایک حقیقت اٹل ہے،جب تک حرمین شریفین کی طرف رخ کیے کروڑوں دل ایک ساتھ دھڑکتے رہیں گے،اورجب تک پاکستان اور سعودی عرب کا رشتہ ایمان، قربانی اوراعتمادپرقائم رہے گاتب تک یہ اتحادمحض ممکن ہی نہیں، ناگزیربھی رہے گا۔