بسنت، وڑن اور وزیراعلیٰ مریم نواز: نظم و ضبط کی سیاست

عمران مغل
لاہور میں پچھلے تین دنوں کے دوران بسنت کا انعقاد محض ایک ثقافتی سرگرمی نہیں تھا بلکہ یہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے گورننس وڑن کا عملی اظہار بھی ثابت ہوا۔ برسوں سے بسنت کو بدنظمی، حادثات اور ریاستی ناکامی کی علامت بنا کر پیش کیا جاتا رہا، مگر حالیہ بسنت نے اس بیانیے کو خاموشی سے دفن کر دیا۔بسنت منائی گئی، پورا شہر رنگوں میں ڈوبا رہا، مگر سب سے اہم بات یہ رہی کہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ نہ کوئی جانی نقصان، نہ کوئی بڑا حادثہ—یہ کامیابی کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ منصوبہ بندی، نگرانی اور مؤثر حکمرانی کا ثبوت ہے۔
مریم نواز کا وژن: تہذیب بھی، تحفظ بھی
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اپنے طرزِ حکمرانی میں بارہا یہ بات واضح کی ہے کہ ریاست کا کام صرف پابندیاں لگانا نہیں بلکہ محفوظ راستے فراہم کرنا ہے۔ بسنت کے معاملے میں بھی یہی سوچ نظر آئی۔
حکومتِ پنجاب نے نہ تو غیر ضروری شور مچایا، نہ نمائشی اعلانات کیے، بلکہ پسِ پردہ رہتے ہوئے ایک منظم فریم ورک پر عمل کیا:
پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی مکمل تیاری
حساس علاقوں میں مسلسل نگرانی
کیمیکل اور خطرناک ڈور کے خلاف مؤثر کارروائیاں
قانون نافذ کرنے والے اداروں کا فوری ردِعمل
یہ سب اس بات کی دلیل ہے کہ ریاست اس بار تماشائی نہیں بلکہ نگران تھی۔
یہ بسنت نہیں، گورننس کا ماڈل تھا
یہ بسنت دراصل ایک ٹیسٹ کیس تھی—اور حکومتِ پنجاب اس میں کامیاب رہی۔
ماضی میں مکمل پابندی کو واحد حل سمجھا گیا، مگر مریم نواز کی قیادت میں یہ ثابت ہو گیا کہ:
تہوار کو منظم کیا جا سکتا ہے
عوام پر اعتماد کیا جا سکتا ہے
اور قانون کو خوف کے بجائے نظم کی علامت بنایا جا سکتا ہے
یہ فرق نعرے اور وڑن میں نہیں، عمل اور نتائج میں ہوتا ہے۔
ریاست اور عوام کا نیا رشتہ
اس بسنت میں ایک اور مثبت پہلو نمایاں رہا: عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد۔ جب حکومت واضح سمت دیتی ہے تو عوام بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ لاہور نے ثابت کیا کہ وہ خوشی منانا جانتا ہے—بشرطیکہ ریاست اسے محفوظ دائرہ فراہم کرے۔
سیاسی شور کے بغیر کارکردگی
اس پورے عمل میں سب سے قابلِ ذکر بات یہ رہی کہ حکومتِ پنجاب نے اس کامیابی کو سیاسی نعرہ بنانے کے بجائے خاموش کارکردگی کو ترجیح دی۔ یہی طرزِ حکمرانی دراصل مریم نواز کے وڑن کی پہچان بنتا جا رہا ہے—کم بات، زیادہ کام۔

لاہور کی حالیہ بسنت ایک تہوار نہیں بلکہ ایک پیغام تھی:
ریاست اگر چاہے تو تہذیب کو خطرہ نہیں، طاقت بنا سکتی ہے۔
یہ بسنت اس بات کا ثبوت ہے کہ
نظم و ضبط، وڑن اور سیاسی سنجیدگی
مل جائیں تو برسوں کے تنازعات بھی حل ہو سکتے ہیں۔
اور اس کامیاب، محفوظ اور منظم بسنت پر
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو مبارکباد—
کیونکہ یہ بسنت پتنگوں سے زیادہ
اچھی حکمرانی کی پرواز تھی۔