قاسم علی شاہ
قارئین کرام سیاست میں بعض دورے محض سفارتی سرگرمی نہیں ہوتے، بلکہ ان کے پیچھے مستقبل کی سمت کا تعین بھی چھپا ہوتا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا حالیہ چار روزہ دورہ چین بھی اسی نوعیت کا دورہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ 25 اگست کو شروع ہونے والا یہ دورہ محض ملاقاتوں، عشائیوں اور رسمی خیرمقدم تک محدود نہیں رہا بلکہ اس میں پنجاب کے لیے زراعت، لائیو اسٹاک، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل گورننس، صنعت، سرمایہ کاری اور نوجوانوں کی جدید تربیت جیسے شعبوں میں نئے امکانات تلاش کیے گئے۔چین آج دنیا کی ان چند طاقتوں میں شامل ہے جنہوں نے صرف چند دہائیوں میں اپنی معیشت، انفراسٹرکچر، زراعت، ٹیکنالوجی اور شہری نظام کو ایک نئی سطح تک پہنچایا ہے۔ پاکستان کے لیے چین کی اہمیت محض ایک دوست ملک کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک ایسے شراکت دار کے طور پر بھی ہے جس سے ترقی کے ماڈلز، ٹیکنالوجی اور تجربات سیکھے جا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب جیسے بڑے صوبے کے لیے چین کے ساتھ براہِ راست صوبائی سطح پر تعاون کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔مریم نواز شریف کے دورے کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ انہوں نے چین کے صوبہ سنکیانگ کی قیادت کے ساتھ زراعت، آبپاشی اور لائیو اسٹاک سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات کی۔ چینی حکام کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں جدید زرعی ٹیکنالوجی، پانی کے بہتر استعمال، ڈیجیٹل فصل مانیٹرنگ اور چینی بیجوں کے استعمال جیسے معاملات زیر بحث آئے۔یہ پہلو پنجاب کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔
پنجاب پاکستان کا زرعی دل ہے۔ گندم ہو، چاول، گنا، مکئی یا دیگر فصلیں، ملکی غذائی ضروریات پوری کرنے میں پنجاب کا بنیادی کردار ہے۔ لیکن دوسری طرف پنجاب کو پانی کی کمی، موسمیاتی تبدیلی، کم فی ایکڑ پیداوار، پرانے زرعی طریقوں، مہنگی زرعی لاگت اور کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی تک محدود رسائی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔
اگر چین کی جدید زرعی ٹیکنالوجی پنجاب کے کسان تک پہنچتی ہے تو یہ محض ایک حکومتی منصوبہ نہیں ہوگا بلکہ اس کے اثرات براہِ راست کسان کی آمدن، خوراک کی قیمتوں اور ملکی معیشت تک پہنچ سکتے ہیں۔چین میں جدید مشینری، ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور پانی کے مؤثر استعمال نے زراعت کے تصور کو تبدیل کر دیا ہے۔ پنجاب میں اگر ان تجربات کو مقامی حالات کے مطابق اپنایا جائے تو کم پانی میں زیادہ پیداوار، بہتر فصل مانیٹرنگ اور زرعی اخراجات میں کمی ممکن ہو سکتی ہے۔یہاں مریم نواز شریف کے دورے کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔چین سے واپس آنا آسان ہے، لیکن چین سے حاصل کیے گئے تجربے کو پنجاب کے کھیت تک پہنچانا اصل کامیابی ہوگی۔دورے کے دوران مریم نواز شریف نے چین کی ایک معروف ڈیری کمپنی ٹائرن وِزڈم ڈیری کا بھی دورہ کیا، جہاں جدید ڈیری فارمنگ، دودھ کی پروسیسنگ اور ملک پروڈکٹس کی تیاری کے نظام کا جائزہ لیا۔ وزیراعلیٰ نے چین کے تعاون سے پنجاب میں جدید دودھ اور ڈیری پروسیسنگ یونٹس قائم کرنے میں دلچسپی ظاہر کی۔یہ معاملہ بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
پاکستان میں مویشیوں کی تعداد کم نہیں، مگر لائیو اسٹاک سیکٹر کی اصل صلاحیت ابھی پوری طرح استعمال نہیں ہو سکی۔ اگر جدید فارمنگ، بہتر نسل، بیماریوں کی بروقت تشخیص، معیاری خوراک، کولڈ چین اور جدید دودھ پروسیسنگ کو فروغ دیا جائے تو پاکستان نہ صرف اپنی اندرونی ضروریات بہتر انداز میں پوری کر سکتا ہے بلکہ ڈیری مصنوعات کی برآمدات میں بھی اضافہ کر سکتا ہے۔
مریم نواز شریف کا چین میں ٹیکنالوجی پر فوکس بھی اس دورے کا ایک اہم پہلو ہے۔دنیا تیزی سے مصنوعی ذہانت کے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ حکومتیں اب صرف فائلوں، روایتی دفتری نظام اور انسانی فیصلوں پر انحصار نہیں کر رہیں بلکہ ڈیٹا، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل نظام کو پالیسی سازی اور عوامی خدمات کا حصہ بنا رہی ہیں۔پنجاب بھی اسی سمت بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
چین میں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے چینی ٹیکنالوجی کمپنی ہواوے کے حکام سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور سمارٹ پبلک سروسز کے حوالے سے تعاون بڑھانے پر بات ہوئی۔ ہواوے کو نواز شریف آئی ٹی سٹی میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی گئی، جبکہ پنجاب کے نوجوانوں کی تربیت کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت سامنے آئی۔یہاں پنجاب کے لیے ایک بہت بڑا موقع موجود ہے۔پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کے نوجوان ہیں۔ اگر یہی نوجوان جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی، سافٹ ویئر، روبوٹکس اور ڈیجیٹل معیشت کے ہنر حاصل کر لیں تو پاکستان کی معیشت کو نئی سمت دی جا سکتی ہے۔ہواوے کے ساتھ ملاقات میں ایک ہزار نوجوانوں کو ماسٹر ٹرینرز کے طور پر تربیت دینے اور 300 خواتین ٹرینرز کو مصنوعی ذہانت کی تربیت دینے پر اتفاق اس سلسلے میں اہم قدم ہے۔لیکن یہاں بھی سوال یہی ہے کہ کیا یہ تربیت چند تقریبات اور سرٹیفکیٹس تک محدود رہے گی یا اس کے نتیجے میں پنجاب کے نوجوانوں کو حقیقی روزگار، فری لانسنگ، اسٹارٹ اپس اور عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ تک رسائی ملے گی؟
اگر حکومت اس سوال کا جواب عملی اقدامات کے ذریعے دے دیتی ہے تو چین کا یہ دورہ پنجاب کے نوجوانوں کے لیے ایک نئے دور کا آغاز بن سکتا ہے۔دورے کا ایک اور اہم پہلو علی بابا کلاؤڈ کے ساتھ رابطہ ہے۔ چینی ٹیکنالوجی کمپنی کے حکام نے پنجاب کے مصنوعی ذہانت پر مبنی گورننس اقدامات میں دلچسپی ظاہر کی اور زراعت، صحت، سماجی پروگراموں اور موسمیاتی پیش گوئی میں اے آئی کے استعمال پر بات ہوئی۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ مصنوعی ذہانت کا اصل فائدہ صرف اس وقت سامنے آئے گا جب اسے عوامی زندگی کے حقیقی مسائل حل کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔
مثلاً اگر ایک کسان کو فصل کی بیماری کا بروقت علم ہو جائے، اگر ہسپتال میں مریض کی ابتدائی اسکریننگ تیزی سے ہو سکے، اگر سیلاب یا شدید بارش کی پیش گوئی پہلے سے زیادہ درست ہو، اگر سرکاری اداروں میں کرپشن یا بدانتظامی کے خطرات ڈیٹا کے ذریعے پکڑے جا سکیں اور اگر شہری کو سرکاری دفتر کے چکر لگانے کے بجائے گھر بیٹھے سہولت مل جائے تو یہی مصنوعی ذہانت کی اصل کامیابی ہوگی۔
چین کے دورے میں بگ ڈیٹا اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی بھی نمایاں موضوع رہی۔ وزیراعلیٰ نے انٹرنیشنل بگ ڈیٹا ایکسپو میں شرکت کی اور ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل نظام اور بگ ڈیٹا کے حوالے سے پیش رفت کا جائزہ لیا۔ گوئی ڑو میں چینی حکام کے ساتھ ملاقات میں ٹیکنالوجی ٹرانسفر، لوکل مینوفیکچرنگ، صنعتی ترقی، سرمایہ کاری اور ڈیجیٹلائزیشن کو آگے بڑھانے پر بات ہوئی۔ یہاں ایک بنیادی نکتہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔پاکستان کو ہمیشہ سے ٹیکنالوجی خریدنے کے بجائے ٹیکنالوجی سیکھنے اور پیدا کرنے کی ضرورت رہی ہے۔اگر چین سے صرف مشینیں خریدی جائیں تو فائدہ محدود ہوگا۔ لیکن اگر چینی کمپنیاں پنجاب میں مقامی مینوفیکچرنگ شروع کریں، پاکستانی انجینئرز اور ٹیکنیشنز کو تربیت دیں، ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے مراکز قائم ہوں اور ٹیکنالوجی کی منتقلی ہو تو اس کے اثرات نسلوں تک جا سکتے ہیں۔اسی لیے ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور لوکل مینوفیکچرنگ کی بات اس دورے کی اہم ترین جہتوں میں شمار کی جا سکتی ہے۔مریم نواز شریف نے چین کے غربت کے خاتمے کے تجربے سے فائدہ اٹھانے کی خواہش بھی ظاہر کی۔ یہ ایک ایسا شعبہ ہے جس پر پاکستان کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ چین نے کروڑوں لوگوں کو غربت سے نکالنے کے لیے انفراسٹرکچر، روزگار، تعلیم، صنعت، زرعی اصلاحات اور مقامی ترقی کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑاپاکستان میں بھی غربت کے خاتمے کے لیے صرف مالی امداد کافی نہیں۔ غریب خاندان کو مستقل آمدن، ہنر، تعلیم، صحت، چھوٹا کاروبار اور مارکیٹ تک رسائی دینا ہوگی۔
اگر پنجاب حکومت چینی تجربات کو مقامی ضروریات کے مطابق استعمال کرتی ہے تو غربت کے خاتمے کی پالیسی زیادہ مؤثر بن سکتی ہے۔یہ دورہ ایک اور لحاظ سے بھی اہم ہے کہ پنجاب اور چین کے تعلقات کو روایتی سرکاری رابطوں سے آگے لے جانے کی کوشش کی گئی۔ وفود کے تبادلے، عوامی رابطوں، سرمایہ کاری، کاروباری تعاون اور صنعتی شراکت داری پر زور دیا گیا۔پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کے تناظر میں یہ دورہ مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ مریم نواز شریف نے گوئی ڑو میں ملاقات کے دوران پاک چین دوستی کو عوام اور باہمی اعتماد پر قائم تعلق قرار دیا اور اس دوستی کو نئی نسلوں تک لے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔اب سوال یہ ہے کہ اس دورے کا پنجاب کو کیا ملے گا؟اس کا جواب صرف معاہدوں کی تعداد میں نہیں ملنا چاہیے۔
کامیابی کا پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ اگلے ایک، دو یا تین سال میں پنجاب میں کتنے نئے صنعتی یونٹس لگے، کتنے نوجوان ٹیکنالوجی کے شعبے میں روزگار حاصل کر سکے، کتنے کسانوں نے جدید زرعی ٹیکنالوجی اپنائی، کتنے ڈیری یونٹس جدید ہوئے، پانی کے استعمال میں کتنی بہتری آئی، کتنی چینی سرمایہ کاری پنجاب میں آئی اور عوامی خدمات کی فراہمی میں مصنوعی ذہانت نے کتنا حقیقی فرق پیدا کیا۔دور? چین کی سب سے خوبصورت تصویر شاید وہ نہیں جو ایئرپورٹ پر استقبال کے موقع پر بنائی گئی، نہ ہی وہ جو رسمی ملاقاتوں میں سامنے آئی۔ اصل تصویر اس وقت بنے گی جب چین سے حاصل کیا گیا علم پنجاب کے ایک دور افتادہ گاؤں، ایک کسان، ایک طالب علم، ایک مریض اور ایک عام شہری کی زندگی بدل دے گا۔مریم نواز شریف کے لیے بھی یہی اصل چیلنج ہے۔ایک وزیراعلیٰ کا بیرون ملک دورہ اس وقت کامیاب تصور ہوتا ہے جب اس کے نتائج فائلوں سے نکل کر زمین پر نظر آئیں۔پنجاب کو اس وقت سڑکوں، پلوں اور عمارتوں کے ساتھ ساتھ علم، ٹیکنالوجی، ہنر،
جدید زراعت، صنعتی پیداوار اور ڈیجیٹل معیشت کی بھی ضرورت ہے۔ چین ان شعبوں میں ایک بڑا تجربہ رکھتا ہے۔ پنجاب کے پاس آبادی، مارکیٹ، نوجوان افرادی قوت اور زرعی و صنعتی صلاحیت موجود ہے۔ دونوں کو جوڑ دیا جائے تو ایک مضبوط معاشی شراکت داری تشکیل پا سکتی ہیمریم نواز شریف کا دورہ اسی امکان کی طرف ایک قدم ہے۔لیکن ہر قدم منزل نہیں ہوتا۔اب اگلا مرحلہ زیادہ اہم ہے: چین میں ہونے والی گفتگو کو پنجاب میں پالیسی، پالیسی کو منصوبے، منصوبے کو عمل اور عمل کو عوامی فائدے میں تبدیل کرنا۔اگر ایسا ہوگیا تو چار دن کا یہ دورہ محض چار دن کی خبر نہیں رہے گا بلکہ پنجاب کی ترقی کی طویل داستان کا ایک اہم باب بن جائے گا۔اور اگر چین سے واپس آنے والا تجربہ فائلوں، پریزنٹیشنز اور تصاویر تک محدود رہا تو پھر یہ دورہ بھی ان بہت سے سرکاری دوروں کی فہرست میں شامل ہو جائے گا جن کی خبریں تو بہت بنتی ہیں مگر نتائج کم دکھائی دیتے ہیں۔
امید یہی ہے کہ اس مرتبہ ایسا نہیں ہوگا۔
پنجاب آج ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں اسے روایتی طرز حکمرانی سے آگے بڑھ کر ٹیکنالوجی، ڈیٹا، مصنوعی ذہانت، جدید زراعت اور صنعتی جدت کو اپنی ترقی کا مرکز بنانا ہوگا۔چین نے اپنے سفر سے دنیا کو دکھایا ہے کہ بڑے مسائل کا حل بڑے خوابوں کے ساتھ ساتھ مستقل مزاجی، نظم و ضبط اور عملی منصوبہ بندی میں ہوتا ہے۔مریم نواز شریف کا چار روزہ دور? چین اگر پنجاب کو یہی سبق عملی طور پر سکھانے میں کامیاب ہوگیا تو اس دورے کی اصل کامیابی یہی ہوگی چین سے پنجاب تک اصل سفر جہاز کا نہیں، تجربے کا ہے۔اور اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ تجربہ پنجاب کی زمین پر کتنی تیزی سے اترتا ہے۔اس پورے سفر میں پنجاب کی وزیرِ اطلاعات عظمٰی بخاری کا کردار بھی قابلِ ذکر ہے۔ حکومت کی پالیسی، وزیراعلیٰ کی سرگرمیوں اور بیرونِ ملک دورے کے اہم نکات کو عوام اور میڈیا تک مؤثر انداز میں پہنچانا ایک آسان کام نہیں۔ عظمٰی بخاری نے بطور وزیرِ اطلاعات حکومت کے مؤقف کو واضح انداز میں پیش کرنے اور عوامی سطح پر حکومتی اقدامات کو اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ ان کی گفتگو میں سیاسی اعتماد کے ساتھ ساتھ حکومتی پالیسیوں کا دفاع بھی نمایاں دکھائی دیتا ہے۔
یہ بات اپنی جگہ اہم ہے کہ کسی بھی حکومت کے لیے صرف اچھے منصوبے بنانا کافی نہیں ہوتا، انہیں عوام تک درست انداز میں پہنچانا بھی ضروری ہے۔ اس حوالے سے عظمٰی بخاری کی میڈیا مینجمنٹ، بروقت ردِعمل اور حکومت کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کرنے کی صلاحیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن حکومتی ترجیحات کو عوام کے سامنے رکھنے کے لیے ایک متحرک اور پراعتماد وزیرِ اطلاعات کی ضرورت ہوتی ہے، اور عظمٰی بخاری اس کردار میں خاصی نمایاں نظر آتی ہیں۔مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب حکومت جہاں ترقیاتی منصوبوں اور جدید طرزِ حکمرانی پر توجہ دے رہی ہے، وہیں عظمٰی بخاری جیسے وزرا حکومت کے بیانیے کو عوام تک پہنچانے میں پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہی سیاسی اور انتظامی ٹیم ورک کسی بھی حکومتی پروگرام کو زیادہ مؤثر بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔