چینی کی قیمت میں اضافہ، افغانستان کو برآمدات میں بھی تیزی

چینی کی قیمت میں اضافہ، افغانستان کو برآمدات میں بھی تیزی

ملک میں چینی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے اور افغانستان کے لیے چینی کی برآمدات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

وزارتِ تجارت کے ذرائع کے مطابق، جولائی تا جنوری 2024-2025 کے دوران افغانستان کو چینی کی برآمدات میں 4332 فیصد کا بڑا اضافہ ہوا ہے، جو کہ گزشتہ سال اسی مدت میں 59 لاکھ ڈالرز سے بڑھ کر اس سال 26 کروڑ 27 لاکھ ڈالرز تک پہنچ گئی ہیں۔ملک میں چینی کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ڈھائی ماہ قبل چینی کی قیمت 131 روپے 85 پیسے فی کلو تھی، جو اب بڑھ کر 160 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔اس اضافے کی وجوہات میں گنے کی کم پیداوار اور چینی کی برآمدات میں اضافہ شامل ہیں۔ چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے پر تاجر برادری نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مرکزی کریانہ مرچنٹ ایسوسی ایشن کے صدر سلیم پرویز بٹ نے اعلان کیا ہے کہ اگر قیمتوں میں اضافہ جاری رہا تو 14 فروری سے پنجاب بھر میں چینی کی فروخت بند کر دی جائے گی۔

حکومت نے جون تا اکتوبر 2024 کے دوران 7 لاکھ 50 ہزار ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی، جبکہ اکتوبر 2024 میں مزید 5 لاکھ میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی گئی۔چینی کی قیمتوں میں اضافے اور برآمدات میں نمایاں اضافہ ملک میں چینی کی دستیابی اور قیمتوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں، جس سے عوام اور تاجر برادری دونوں متاثر ہو رہے ہیں۔