پنجاب کو بڑی تباہی سے بچالیا گیا

ڈاکٹر جمشید نظر
پنجاب میں امن و امان کی فضا کو برقرار رکھنے کے لیے کام کرنے والے اداروں نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ یہ ملک نہ صرف محفوظ ہاتھوں میں ہے بلکہ دشمن کی ہر چال پر گہری نظر بھی رکھے ہوئے ہے۔ پنجاب کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کی حالیہ کارروائی اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ ہماری سکیورٹی فورسز نہ صرف پیشہ ور ہیں بلکہ دشمن کے جدید ترین طریقوں کا بھی بروقت اور موثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ لاہور، فیصل آباد اور بہاولپور میں کی گئی کارروائیوں میں CTD نے 12 ایسے دہشت گردوں کو گرفتار کیا جو بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ سے تعلق رکھتے ہیں۔یہ گرفتاریاں ظاہر کرتی ہیں کہ CTD کی ٹیم ہر شہر میں اپنی موجودگی کے ذریعے دہشت گرد عناصر پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت سے آپریٹ ہونے والی عادل نامی فیس بک آئی ڈی کے ذریعے دہشت گردوں کو ٹریک کیا گیا اور گرفتاری میں مدد ملی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دشمن کی آن لائن سرگرمیاں بھی اب پاکستان کے سیکیورٹی اداروںکی نظروں سے نہیں بچ سکتیں۔یہ بات بھی قابل غور ہے کہ لاہور سے گرفتارہونے والا ایک دہشت گرد جس کا نام سکھ دیپ سنگھ ہے وہ پیدائشی طور پر مسیحی تھا اور اس نے کچھ عرصہ قبل اپنا مذہب تبدیل کرکے سکھ بن گیا۔دہشت گردوں کا تو کوئی دین مذہب نہیں ہوتا لیکن سکھ دیپ سنگھ کو اس لئے سکھ مذہب اختیار کروایا گیا تاکہ مسلمانوں اور سکھوں کے درمیان نفرت پیدا کی جاسکے۔ CTD کے مطابق یہ گروہ بھارتی دہشت گرد ایجنسی RAW سے بھاری مالی معاونت حاصل کر رہا تھا ۔عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق دشمن اب صرف بارودی مواد نہیں بلکہ نفسیاتی اور مالی حربے بھی استعمال کر رہا ہے۔
دہشت گردوں کے خلاف سی ٹی ڈی کی کامیاب کارروائیاں صرف ایک آپریشن نہیں ہوتابلکہ یہ ریاست و سیکیورٹی اداروں کی صلاحیت، پیشہ ورانہ تربیت اور بروقت ردِعمل کا ثبوت ظاہر کرتا ہے۔ دہشت گردوں کے پاس سے اسلحہ اور بارودی مواد کے علاوہ حساس مقامات ،مدرسہ اور میلے کی تصاویر کی برآمدگی ان کے ناپاک عزائم کو واضح کررہی تھی کہ وہ کیاکرنا چاہتے تھے۔ اگر CTD  بروقت کارروائی نہ کرتا تو نہ جانے کتنی معصوم جانیں موت کے منہ میںچلی جاتیں۔اس کامیابی کا سب سے روشن پہلو یہ ہے کہ پنجاب CTD نے جدید انٹیلی جنس بیسڈ تکنیکوں کے ذریعے اس نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے ادارے نہ صرف بدلتے ہوئے سکیورٹی ماحول کو سمجھ رہے ہیں بلکہ ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ مہارت کے امتزاج سے بروقت کارروائی بھی کر رہے ہیں۔ دشمن سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل ذرائع کا سہارا لے کر نئی چالیں چل رہا تھا مگر ہمارے اداروں نے خاموشی سے اس پوری سرگرمی کو ٹریس کیا، اس کے روابط سمجھے اور آخرکار اسے ناکام بنا کر یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان کی حفاظتی لائنیں پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور فعال ہیں۔ایسی پیشہ ورانہ مہارت اور خاموش کارروائیوں کو دیکھ کر دوسرے ممالک کے ادارے اور ان کے سربراہان افواج پاکستان اور سکیورٹی ایجنسیوں کی تعریف کرنے پر مجبور ہیں۔
پنجاب CTD کے اس آپریشن نے یہ بات بھی واضح کردی ہے کہ ریاستی اداروں کے درمیان بہترین ہم آہنگی اور مربوط کوآرڈی نیشن  موجودہے جو ترقی یافتہ ممالک کی بنیاد ہوتا ہے اور پاکستان اب اس سمت میں مضبوطی سے آگے قدم بڑھا رہا ہے۔ پنجاب میں گزشتہ تین ماہ کے اندر CTD نے مجموعی طور پر درجنوں دہشت گردوں کو نہ صرف گرفتار کیا بلکہ ان کے دہشت گردی کے منصوبے قبل از وقت ناکام بھی بنائے۔ افواج پاکستان، ریاست اورتمام سیکیورٹی ادارے پاک سرزمین اورعوام کی حفاظت کے معاملے میں ہر گزرتے دن کے ساتھ زیادہ مضبوط، زیادہ منظم اور زیادہ جدید ہو رہے ہیں۔ دشمن چاہے جتنا بھی نیاطریقہ ،نئی تکنیک یا جدیدہتھیاراستعمال کر لے ہماری افواج اور دفاعی نظام اس کے مقابلے میں تیز تر ، چوکنا اور ناقابل تسخیرہے۔سلام ہے ان گمنام سپاہیوں کو جو خاموشی سے ہماری نیندوں کی حفاظت کرتے ہیں اور اپنی جانون کا نذرانہ پیش کرتے رہتے ہیں۔