چینی برآمد کر کے ملکی زرِمبادلہ میں اضافہ کیا جائے:ترجمان

اس وقت شوگر انڈسٹری کو چینی کے بہت زیادہ ذخائر کو برقرار رکھنے میں چیلنجز کا سامنا ہے
لاہور(خصوصی رپورٹ)پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ رواں کرشنگ سیزن 26-2025 میں بنائی گئی سرپلس چینی کو فوری برآمد کر کے زرِمبادلہ کے ملکی ذخائر میں اضافہ کیا جائے۔ترجمان نے کہا کہ 15 نومبر، 2025کو پچھلے سیزن کا کیری فاروڈ اسٹاک 271،704 میٹرک ٹن موجود تھا جس میں 117،541 میٹرک ٹن مقامی اور 154،163 میٹرک ٹن درآمدی چینی ہے۔ ایف-بی-آر کے 31 مارچ، 2026 کے ڈیٹا کے مطابق نومبر 2025 سے شروع حالیہ کرشنگ سیزن میں 75 لاکھ، 73 ہزار میٹرک ٹن چینی بنائی گئی ہے۔ چند ملوں کی جاری پراسیسنگ مکمل بند ہونے تک یہ مقدار 76 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ جائے گی۔ اس کے علاوہ سابقہ دو سالوں کی اوسطاََ 86،809 میٹرک ٹن چینی چقندر سے بھی اپریل تا جون 2026 میں بنائی جائے گی۔ یہ تمام مقدار ملا کر 79 لاکھ، 58 ہزار میٹرک ٹن چینی ہو گی۔ ایف-بی-آر کیڈیٹا کے مطابق 16 نومبر، 2024 سے 15 نومبر، 2025 کے دوران ملک میں چینی کی سالانہ سپلائی 64 لاکھ، 76 ہزار میٹرک ٹن اسطرح اوسطاَ کھپت 539،662 میٹرک ٹن ماہانہ رہی۔ ڈھائی فیصد آبادی کے بڑھنے کے تناسب کو لے کر اگلے سال چینی کی سالانہ کھپت 66 لاکھ، 38 ہزار میٹرک ٹن ہو گی۔اس طرح چینی کے 13 لاکھ, بیس ہزار میٹرک ٹن کے اسٹاکس ملک میں سرپلس ہیں۔ اگر ایک مہینے کے اضافی اسٹریٹجک ذخائر کو رکھا جائے تو پھر بھی ملک میں سات لاکھ 67 ہزار میٹرک ٹن اسٹاک سرپلس ہوں گے۔اس وقت شوگر انڈسٹری کو چینی کے بہت زیادہ ذخائر کو برقرار رکھنے میں چیلنجز کا سامنا ہے جبکہ اس کی مانگ بھی کم ہے۔ چینی کی حالیہ قیمتیں اس کی پیداواری لاگت سے بہت کم ہیں کیونکہ گنے کی قیمتوں و دیگر پیداواری عوامل میں مسلسل اضافے کی وجہ سے شوگر انڈسٹری کو نقصان کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔چینی کے زائد اسٹاکس کی وجہ سے شوگر انڈسٹری کو مالی مسائل کا سامنا ہے جس بِنا پر بینکوں سے لیے گئے قرضوں اور کاشتکاروں کو گنے کی باقی ماندہ ادائیگیوں میں مسائل کا سامنا ہے۔گذشتہ دو سالوںمیں گنے کی اچھی قیمت ملنے پرکسانوں میں زیادہ سے زیادہ گنا لگانے کا رجحان بڑھا ہے۔ اگلے کرشنگ سیزن کیلئے بھی گنے کی زیادہ فصل لگی ہے جس کی بدولت چینی زیادہ بنے گی اور 20 لاکھ میٹرک ٹن فالتو چینی بننے کی امید ہے۔ایران-امریکا کی جنگ کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور پاکستان کو بھی ملکی ضروریات کیلئے ایک خطیر رقم تیل کی درآمدات پر خرچ کرنی پڑرہی ہے۔ اس صورتحا ل میں حکومت کو چاہیے کہ وہ 767،000 میٹرک ٹن کی سرپلس چینی برآمد کر کے ملکی خزانے میں400 سے 500 ملین ڈالر کا قیمتی زرِمبادلہ حاصل کرے جس سے ہمارے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو سکے۔