وزیراعظم کی جانب سے تعیناتی کو خفیہ ادارے کا افسر کیسے ویٹو کرسکتا ہے اسلام آباد ہائیکورٹ

 کیا انٹیلی جنس ادارے کی رپورٹس کا عدالتی حکم میں جائزہ لیا جا سکتا ہے؟جسٹس خادم حسین سومرو کا استفسار ‘کیس کی سماعت ملتوی
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)اسلام آباد ہائی کورٹ نے بیرون ملک ٹریڈ مشنز میں تعیناتی انٹیلی جنس رپورٹ پر روکنے دینے کو غیرقانونی قرار دینے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کے دوران سوال اٹھایا ہے کہ وزیراعظم نے شفاف طریقے سے تعیناتی کردی تو پھر خفیہ ادارے کا سب انسپکٹر اس فیصلے کو کیسے ویٹو کرسکتا ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس عمیر مجید ملک نے ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ افسران کی بیرون ملک پاکستان ٹریڈ مشنز میں تعیناتی انٹیلی جنس رپورٹ کی بنیاد پر روکنے کے عمل کو غیر قانونی قرار دینے کے عدالتی فیصلے کے خلاف وفاق کی انٹراکورٹ اپیل پر سماعت کی۔جسٹس انعام امین منہاس کے 12 مئی کے فیصلے میں سرکاری افسروں کو انٹیلی جنس رپورٹ کی بنیاد پر بیرون ملک تعیناتی سے روکنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا گیا تھا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران متاثرہ سرکاری افسران کی جانب سے کاشف علی ملک اور سعد بٹر ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے، سعد بٹر ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ تمام پراسیس مکمل ہونے کے بعد انٹیلی جنس رپورٹ میں یہ لکھا گیا کہ متعلقہ افسران فلاں پوسٹ کے لیے موزوں نہیں، ٹیسٹ اور انٹرویوز کے بعد شارٹ لسٹ ہونے والوں کو کسی خفیہ رپورٹ کی بنیاد پر کیسے روکا جا سکتا ہے۔جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا  کیا انٹیلی جنس ادارے کی رپورٹس کا عدالتی حکم میں جائزہ لیا جا سکتا ہے، عدالت نے کیس کی سماعت ملتوی کر دی جس کی آئندہ تاریخ بعد میں رجسٹرار آفس مقرر کرے گا۔