تحریر:ماریہ احمد
ہمارے ہاں بہنیں اور بیٹیاں یہاں تک کہ مائیں بھی یہ سوچ کے حصہ نہیں مانگتیں کہ انہیں یہ حصہ خونی رشتوں کے بھاؤ ملے گا ۔ ماں کو بیٹے چھوڑ دیتے ہیں بہنوں کو بھائی اور بیٹیوں کو باپ بھائی۔۔ ساری زندگی یہ سوچ کے گزار دیتی ہیں کہ ہمیں ضرورت نہیں ہے اور جب ضرورت پڑتی ہے تب رشتوں کی اتنی ضرورت ہوتی ہے کہ انہیں بیچنے کا حوصلہ نہیں ہوتا۔کیا یہ حصہ باپ بھائی یا بیٹے دیتے ہیں ؟یہ حصہ اللہ نے دیا ہے جیسے مرد کو دیا ہے ایسے ہی عورت کو۔۔ کوئی مرد یہ سوچے کہ اسکی بہن بیٹی بیوی یا ماں ٹھیک ٹھاک ہو مگر اسے حصہ نا دے بلکہ حصے کے نام پہ تھوڑی تھوڑی خیرات دیتی رہے اور بتاتی بھی رہے تو اس مرد کی سوچ کے ہی کیا حالت ہوگی۔ ماریہ کہتی ہے کسی کا مسلہ سمجھنا ہو تو اسکے جوتے میں پاؤں ڈال کے دیکھ لو کیسا لگتا ہے یعنی خود کو اس جگہ تصور ہی کر کے دیکھیے کیا حالت ہوتی ہے آپ کی۔۔ہماری ایک دور پرے کی رشتہ دار خاتون ہیں ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بڑے فخر سے بتایا کہ میں نے اپنا حصہ چھوڑ دیا ہے میں بھائی نہیں چھوڑ سکتی تھی میں ورطہ حیرت میں ڈوب گئی کہ حصہ بھائیوں کا تھا کیا ؟ وہ تو اللہ نے دیا تھا۔ بات سننے اور سنانے والیاں اس بات کو فخر سے بیان کر رہی تھیں۔
"ہمارے ہاں بیٹی بہن ماں بیوی قانونی اور شرعی معاملات سے اتنی ہی نا بلد ہے جتنا ایک مرد درد زہ سے نا واقف ہوتا ہے"،مجھے افسوس ہوتا ہے ان ماں باپ پہ جو یہ کہتے ہیں کہ یہ بچیوں کے کرنے یا سمجھنے کے معاملات نہیں ہوتے ہیں . بھائی بھی یہی کہتے دیکھے اور اکثر شوہر اور بیٹے بھی ‘دین کو مرد و عورت پہ مکمل طور پر اتارا گیا ہے اس میں کہیں اس چیز کی تخصیص نہیں کی گئی کہ مرد کو فلاں چیز کا علم ہونا چاہیے اور عورت کو فلاں چیز کا۔بالکل اسی طرح ایک یہ بات ہے کہ شادی کے بیٹیاں پراء ہو جاتی ہیں حالاں کہ گھر سے چلے جانے کہ بعد اسے محبت زیادہ ملنی چاہیے تا کہ اسے علم ہو کہ ماں باپ بھائی بہن کے لئے اسکے وجود کی کیا اہمیت ہے میں نہیں کہتی کہ بہن بھائی بھابی کی ذاتی زندگی میں دخل اندازی کرے لیکن ماں باپ کے ہاں ہونے والے اگر مسائل کا علم بیٹی کو ہوتا ہے اور وہ بھائیوں بہنوں یا ماں باپ کی فکر کرتی ہے تو گھر میں کیے جانے والے فیصلوں میں بھی اسکا حصہ ایسے ہی ہونا چاہیے جیسے ہوا کرتا تھا۔۔