محکمۂ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ ایران میں تیل کے ذخائر پر مبینہ بمباری، جو اسرائیل اور امریکا کی جانب سے کی گئی، کے نتیجے میں ایران کو سنگین ماحولیاتی اثرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
تاہم، پاکستان میں اس کا براہِ راست اثر فی الحال دیکھنے میں نہیں آیا۔محکمہ کے مطابق تہران اور اس کے گرد و نواح میں بلیک ایسڈ رین (سیاہ تیزابی بارش) رپورٹ ہونا اس آلودگی کی ایک ممکنہ علامت ہو سکتی ہے۔ جنگ کے باعث ایران سے موسمیاتی ڈیٹا مکمل طور پر موصول نہیں ہو رہا، لیکن صورتِ حال کو سیٹلائٹ ڈیٹا کے ذریعے مسلسل مانیٹر کیا جا رہا ہے۔تہران جغرافیائی طور پر پاکستان کے شمال مغرب میں واقع ہے، اس لیے اگر آلودگی کے اثرات پھیلیں تو ان کا رخ زیادہ تر افغانستان کی جانب ہو سکتا ہے۔ ایران کے جنوبی علاقے پاکستان کے صوبے بلوچستان کے قریب ہیں، لیکن تہران میں پیدا ہونے والی آلودگی کا فی الحال وسیع پھیلاؤ نہیں دیکھا گیا۔تیل کے ذخائر میں آگ لگنے سے کاربن کا اخراج بڑھ سکتا ہے، جس سے بالائی فضائی سطح پر درجۂ حرارت میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔ اس کے اثرات سے فضا میں نمی برقرار رکھنے کی صلاحیت بڑھ سکتی ہے، اور مستقبل میں ملحقہ علاقوں میں بارشوں کے نظام پر اثر پڑنے کا امکان ہے۔محکمۂ موسمیات کے مطابق، ایران سے مغربی ہواؤں کے ساتھ آلودہ ذرات پاکستان کے مغربی حصوں تک پہنچ سکتے ہیں، جس سے فضائی معیار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
پاکستان میں موسمی پیش گوئی:
بالائی علاقوں میں 9 تا 12 مارچ گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔
اسلام آباد، مری، گلیات اور خطہ پوٹھوہار میں 9 تا 11 مارچ بادل برسنے کا امکان ہے۔
بارشوں کے باعث دن کے درجۂ حرارت میں 3 سے 4 ڈگری کمی متوقع ہے۔
کے پی اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہے، سیاح محتاط رہیں۔