پختونخوا، بلوچستان میں ہڑتال،پنجاب ، سندھ میں ناکام

 لاہور اور کراچی سمیت بڑے شہرمعمول کے مطابق کھلے رہے کوئٹہ میں تمام بڑے کاروباری مراکز بند 
پشاور، کوئٹہ، لاہور ، کراچی ( مانیٹرنگ ڈیسک )تحریک تحفظ آئین پاکستان کی اپیل پر اتوار کو خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے مختلف شہروں میں شٹر ڈائوں اور پہیہ جام ہڑتال کی رہی ، جس کی وجہ سے بیشتر کاروباری مراکز بند رہے اور اہم قومی شاہراہوں پر ٹریفک معطل رہی۔ لاہور سمیت دیگر شہروں میں جزوی ہڑتال رہی۔تحریک تحفظ آئین پاکستان کی اپیل پر آج اتوار کو کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف شہروں میں شٹر ڈائون اور پہیہ جام ہڑتال کی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے بیشتر کاروباری مراکز بند ہیں اور اہم قومی شاہراہوں پر ٹریفک معطل ہے۔تحریک انصاف، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی اور دیگر جماعتوں پر مشتمل اپوزیشن اتحاد ’تحریک تحفظ آئین پاکستان‘ نے 8 فروری 2024 کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف ہڑتال کی کال دے رکھی ہے۔جناح روڈ، پرنس روڈ، کندھاری بازار، لیاقت بازار سمیت کوئٹہ شہر میں تمام بڑے کاروباری مراکز بند رہے ، جبکہ شہر کی سڑکوں پر ٹریفک بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔سیاسی جماعتوں کے کارکنان شہر کے مختلف علاقوں میں گشت کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔کوئٹہ کے علاوہ پشین، قلعہ سیف اللہ، ڑوب، لورالائی، موسیٰ خیل، قلعہ عبداللہ، چمن، زیارت، سبی اور صحبت پور سمیت بلوچستان کے کئی دیگر شہروں میں بھی شٹر ڈائون اور پہیہ جام ہڑتال کی جا رہی ہے۔پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے کارکنوں نے یارو، مسلم باغ سمیت مختلف مقامات پر کوئٹہ کو چمن، پنجاب اور خیبر پختونخوا سے ملانے والی شاہراہوں کو بند کر رکھا ہے، جس کے باعث گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں اور مسافر پھنس گئے ہیں۔صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان میں ہڑتال کے دوران امن وامان میں خلل ڈالنے اور زبردستی روڈز بلاک کرنے اور ہڑتال کروانے پر پولیس کی جانب سے کوئٹہ کے مختلف علاقوں ایئر پورٹ روڈ ، خیزی چوک ، مشرقی اور مغربی بائی پاس ، نواں کلی بائی باس سمیت دیگر علاقوں میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی اور پولیس کی جانب سے زبردستی روڈ بلاک کرانے کے الزام میں تقریباً 215کے قریب سیاسی رہنمائوں ا ور کارکنوں کو گرفتار کرکے مختلف تھانوں میں بند کردیا گیا۔ تحریک انصاف کی کال پر ایبٹ آباد میں جزوی ہڑتال رہی۔ زبردستی دکانیں بند کرانے پر پی ٹی آئی کارکنوں اور دکاندارو ں میں جھگڑے ہوتے رہے۔ سابق سپیکر مشتاق احمد غنی کھلی دکانوں کے شٹر خود بند کرتے رہے۔ پی ٹی آئی کارکنان کی ریلیاں اور شاہراہ ریشم کو منڈیاں کے مقام سے ٹائر جلا کر بند کر دیا۔تحریک تحفظ آئین پاکستان اور جی ڈی اے ٹنڈو محمد خان کی جانب سے 8 فروری 2024 کے عام انتخابات میں دھاندلیوں کے خلاف ٹنڈو محمد خان کے مختلف علاقوں مہران چوک، شاہی بازار، اناج منڈی، سجاول چوک، اسٹیشن روڈ سمیت دیگر تجارتی مراکز پر شٹر بند اور پہیہ جام ہڑتال کی گئی جبکہ بارہ بجے تمام کاروبار مارکیٹیں کھول دی گئیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف قومی عوامی تحریک ایس یو پی کے کارکنان صبح سے موٹر سائیکلوں پر سوار ہوکر ٹولیوں کی صورت میں شہر کا گشت کرتے رہے۔پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے مختلف علاقوں میں اتوار کو سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔مظاہرین نے انتخابات میں مبینہ دھاندلی، مینڈیٹ کی واپسی، عمران خان تک رسائی اور آئین کی بحالی کا مطالبہ کیا۔دارالحکومت مظفر آباد، پٹہکہ، چناری، پونچھ، راولاکوٹ اور دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں ریلیاں اور جلوس نکالے گئے۔پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ پختونخوا میں دکانیں، کاروبار، بازار اور ٹرانسپورٹ سمیت ہر چیز بند رہی۔تحریک انصاف خیبرپختونخوا کے ڈپٹی انفارمیشن سیکریٹری اکرام کھٹانہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے تمام اضلاع میں مکمل ہڑتال رہی ، تمام اضلاع میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔انہوں نے کہا کہ پشاور میں ہشت نگری سے چوک یادگار تک پیدل مارچ کیا گیا۔راولپنڈی اور اسلام آباد کی مارکیٹس معمول کے مطابق کھلی رہیں اور کہیں بھی بڑے پیمانے پر شٹر ڈائون یا احتجاج دیکھنے میں نہیں آیا۔اسلام آباد کے بڑے تجارتی مراکز، بلیو ایریا، آبپارہ، جی نائن سمیت دیگر مارکیٹس کھلی رہیں اور کاروباری سرگرمیاں جاری رہیں اور کاروبار معمول کے مطابق جاری رہا۔انتظامیہ نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر راولپنڈی اسلام آباد میں میٹرو بس سروس بند کر رکھی ہے۔ادھر پنجاب اور سندھ کے بڑے شہروں، بشمول کراچی، لاہورمیں زندگی معمول کے مطابق رواں دواں رہی جبکہ کچھ شہروں میں جزوی ہڑتال ہوئی۔لاہورکی عوام نے احتجاج کی کال کو یکسر مسترد کرتے ہوئے روایتی جوش و خروش کے ساتھ بسنت منائی۔چنیوٹ میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے دی گئی پہیہ جام اور شٹر ڈائون ہڑتال کی کال بری طرح ناکام ہوگئی۔ ضلع بھر میں تمام تجارتی مراکز حسبِ معمول کھلے رہے۔پی ٹی ائی کی 8 فروری کو ہڑتال کی کال کو سرگودھا کے تاجران نے مسترد کرتے ہوئے تمام دوکانیں کھول کر اپنی کاروباری سرگرمیاں برقرار رکھیں۔دریا خان اور گردونواح میں ہڑتال کی کال مسترد کر دی گئی۔تحریک انصاف کسان ونگ پنجاب کے صدر رانا عامر شہزاد ٹکٹ ہولڈر قومی اسمبلی کو گرفتار کر لیا گیا اور گرفتاری کے بعد تھانہ تھانہ سٹی منتقل کر دیا پولیس نے گزشتہ رات تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈروں ،عہدیداروں اوررائے حسن نواز اورچو ہدری آصف علی صوبائی عہدیداروں کے حامیوں اور سرگرم کارکنوں کی رہائش گاہوں پر پولیس نے چھاپے مارے لیکن کوئی گرفتاری عمل میں نہ آسکی۔ تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ ، ہم پاکستان کے خیر خواہ ہیں، ملک کو نقصان نہیں چاہتے ، خیبر پختونخوا کے علاقے بونیر میں احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی نے کہا کہ احتجاج کے ذریعے مینڈیٹ چوری کو مسترد کرتے ہیں، ہر ضلع میں احتجاج ہمارا جمہوری حق ہے۔انہوں نے کہا کہ کے پی، سندھ، پنجاب، بلوچستان سے بھرپور حمایت ملی، معیشت، دفاع اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں۔