وینزویلا نے منشیات کے خلاف ساحلی علاقوں میں فوجی تعینات مزید بڑھا دیے

وینزویلا نے منشیات کے خلاف ساحلی علاقوں میں فوجی تعینات مزید بڑھا دیے

وینزویلا نے منشیات کی اسمگلنگ سے نمٹنے کے لیے ساحلی علاقوں میں فوجیوں کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

 یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب امریکا نے کیربیئن جزیرے پورٹو ریکو میں دس ایف-35 لڑاکا طیارے تعینات کیے، جو ڈرگ کارٹلز کے خلاف امریکی بحری آپریشن کا حصہ ہیں۔وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے زولیا ریاست کے علاقے گواجیرا اور فالکن کے جزیرہ نما علاقے پیراگوانا میں مزید فوجیوں کو بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ علاوہ ازیں، جزیرے نیوا ایسپارٹا، ریاست سوکرے اور ڈیلٹا اماکورو میں بھی فوجیوں کی تعداد بڑھائی جائے گی، جس سے مجموعی طور پر تقریباً 25 ہزار فوجی تعینات ہوں گے۔ یہ تعداد کولمبیا کی سرحد کے قریب زولیا اور تاچیرا کی ریاستوں میں پہلے سے تعینات 10 ہزار فوجیوں سے زیادہ ہے۔

صدر مادورو نے الزام لگایا کہ امریکا حکومت وینزویلا میں حکومت کی تبدیلی کا خواہاں ہے۔ تاہم، امریکی صدر ٹرمپ نے اس الزام کو مسترد کر دیا۔اس تنازع کی تازہ لہر گزشتہ منگل کو پیدا ہوئی، جب امریکی فورسز نے وینزویلا کی ایک کشتی کو بم دھماکے سے اڑا دیا۔ امریکا کا کہنا ہے کہ کشتی میں اسمگلرز منشیات لے کر امریکا جا رہے تھے، اور بم دھماکے کے نتیجے میں کشتی پر سوار تمام 11 افراد ہلاک ہو گئے۔وینزویلا کے فوجی تعینات کرنے کے اس اقدام کا مقصد ملک کے ساحلی علاقوں میں منشیات کی اسمگلنگ کو روکنا اور امریکی دباؤ کے تناظر میں اپنے دفاع کو مضبوط بنانا بتایا گیا ہے۔