واشنگٹن سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، امریکا کی معروف دفاعی کمپنی ریتھیون (Raytheon) نے اپنے ایک بڑے دفاعی معاہدے میں ترمیم کے بعد پاکستان کو جدید فضائی دفاعی میزائل فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس معاہدے کے تحت پاکستان کو اے آئی ایم-120 اے ایم ریم (AIM-120 AMRAAM) میزائلوں کی نئی کھیپ فراہم کی جائے گی، جو دنیا کے سب سے جدید درمیانی فاصلے کے فضاء سے فضاء میں مار کرنے والے میزائلوں میں شمار ہوتے ہیں۔
معاہدے کی تفصیلات
امریکی محکمہ دفاع (U.S. Department of Defense) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق،ریتھیون کمپنی کے موجودہ معاہدے میں 4 کروڑ 16 لاکھ ڈالر (41.6 ملین ڈالر) کی ترمیم کی گئی ہے۔اس ترمیم کے بعد کل معاہدے کی مالیت 2.47 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ترمیم کے تحت AMRAAM کے C-8 اور D-3 ماڈلز تیار کیے جائیں گے، جو پہلے کے ماڈلز کے مقابلے میں زیادہ بہتر ریڈار گائیڈنس، لمبا رینج اور زیادہ درستگی رکھتے ہیں۔یہ میزائل امریکی ریاست ایریزونا کے شہر ٹکسن (Tucson) میں تیار کیے جائیں گے۔منصوبہ 30 مئی 2030 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔
شامل ممالک
پاکستان کے ساتھ ساتھ اس ترمیم شدہ معاہدے میں درج ذیل ممالک بھی شامل ہیں:برطانیہ، جرمنی، سعودی عرب، اٹلی، ترکیہ، اسرائیل، جاپان، فن لینڈ، جنوبی کوریا، اسپین، قطر، عمان اور دیگر اتحادی ممالک۔
پاکستان ایئر فورس کے لیے اہم اضافہ
یہ جدید AMRAAM C-8 اور D-3 میزائلز پاکستان ایئر فورس کے F-16 لڑاکا طیاروں پر نصب کیے جائیں گے۔یاد رہے کہ فروری 2019 کے “آپریشن سوئفٹ ریٹورٹ” کے دوران پاکستان ایئر فورس نے انہی میزائلوں کی مدد سے بھارتی فضائیہ کے دو طیارے مار گرائے تھے، جس کے بعد ان میزائلوں کی صلاحیت عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنی تھی۔
تعلقات میں بہتری کی علامت
امریکی دفاعی ماہرین کے مطابق، اس فیصلے کو اسلام آباد اور واشنگٹن کے تعلقات میں بہتری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
گزشتہ چند مہینوں میں دونوں ممالک کے درمیان:
انسدادِ دہشتگردی کے شعبے میں تعاون
اقتصادی و تجارتی شراکت داری
اور علاقائی سیکیورٹی کے حوالے سے اعتماد سازی میں نمایاں پیشرفت ہوئی ہے۔یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اور امریکا دونوں، افغانستان میں امن، دہشتگردی کے خلاف مشترکہ اقدامات، اور خطے میں استحکام کے لیے نئے مکالمے کا آغاز کر چکے ہیں۔