آپریشن سیندور والوں کے گلے میں منگل سوتر

 رفیع صحرائی

بھارت نے 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب اپنی بزدلانہ روایت کو دہراتے ہوئے رات کی تاریکی میں پاکستان کے 6 سول مقامات پر میزائل حملہ کیا۔  کوٹلی، بہاول پور اور مرید کے میں مساجد کو ٹارگٹ کیا جس سے مساجد سے ملحق عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ عورتوں اور بچوں سمیت 26 پاکستانی شہید اور پچاس کے قریب زخمی ہو گئے۔ سیالکوٹ اور شکرگڑھ کے مقامات پر ہونے والے میزائل حملوں میں زیادہ نقصان نہیں ہوا۔
میزائل حملے کے ساتھ ہی بھارت کے 70 سے 80 لڑاکا طیارے پاکستان پر حملہ آور ہونے کے لیے فضا میں بلند ہوئے۔ پاکستان کی بہادر، غیور اور مسلح افواج نے بروقت بدلہ لینے کے لیے تیز رفتار کارروائی کرتے ہوئے انڈیا کی فوجی تنصیبات اور جنگی جہازوں کو نشانہ بنا کر ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ پاکستان نے فضا سے فضا میں اور زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کے ذریعے پانچ بھارتی طیارے تباہ کرنے کے علاوہ، ڈرون طیارے، دو فوجی بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز اور متعدد فوجی چیک پوسٹیں بھی تباہ کر دیں۔ تباہ ہونے والے جنگی جہازوں میں تین رافیل طیارے بھی شامل تھے جن کا بھارت اور اس کے وزیرِ اعظم نریندرا مودی کو غرور ہی بہت تھا۔ رافیل جدید ترین جنگی جہاز ہیں ان کی تباہی نے ہندوستانی فوج کی کمر اور حوصلے توڑ کر رکھ دیئے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف نے بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان چاہتا تو مزید دس بھارتی طیارے بھی تباہ کرسکتا تھا مگر پاکستان نے صرف انہی طیاروں کو گرایا جو پاکستان پر حملہ آور ہوئے تھے۔ یہاں یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ تمام بھارتی طیارے بھارتی حدود میں گرائے گئے۔ بھارتی فوج نے شدید نقصان اٹھانے کے بعد اپنی چوکیوں پر سفید جھنڈا لہرا کر عملی طور شکست تسلیم کر لی۔
دیکھا جائے تو پاکستان نے ہندوستانی سیندور آپریشن کو تندور آپریشن میں تبدیل کر کے رکھ دیا۔ انڈیا کے آپریشن سیندور کے جواب میں پاکستانی فوج نے ہندوستانی فوج کی مانگ میں سیندور بھرنے کے ساتھ ساتھ منگل سوتر بھی ڈال کر اسے اس کا مقام بتا دیا ہے۔ یہ پاکستانی فوج کی عظمت ہے کہ اس نے بھارت کی بزدلانہ کارروائی کے جواب میں انڈین سول آبادی کو نشانہ نہیں بنایا۔ پاکستان نے ایسا آؤٹ سٹینڈنگ جواب دیا ہے کہ جس نے ہندوستان میں کھلبلی مچا دی ہے۔ 
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ پاکستان کے عوام اور فوج کا مورال انتہائی بلند ہے۔ پاکستان کو اس کے سپہ سالار کی صورت میں ایسی ولولہ انگیز لیڈرشپ میسر ہے جس کا پاکستان کو مدتوں سے انتظار تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ سیاسی لیڈرشپ نے بھی قومی یک جہتی، حکمت و دانش، دلیری اور حب الوطنی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس وقت تمام سیاسی لیڈرشپ بھارت کے خلاف ایک صفحے پر ہے۔
وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف کی صدارت میں ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان کی مسلح افواج کو بھارتی جارحیت کے جواب میں ہندوستان کو بھرپور جواب دینے کا اختیار دے دیا گیا ہے۔ اب پاک فوج کے پاس کھلے آپشنز موجود ہیں۔ اگر ہندوستانی فوج پاکستان پر بلااشتعال کارروائی کر کے میزائل فائر کر سکتی ہے تو یہ صلاحیت پاکستان کے پاس بھی موجود ہے۔ کہ ہندوستان کے کسی بھی مقام کو ٹارگٹ کر سکے۔
بھارت نے ایک اور بے وقوفی یہ کی ہے کہ اس نے پاکستان کے نیلم جہلم پراجیکٹ کو بھی ٹارگٹ کرنے کی کوشش کی ہے جو انتہائی احمقانہ عمل ہے۔ یہ بین الاقوامی اصولوں کے سراسر خلاف ہے۔ ہندوستان میں چھوٹے بڑے ہزاروں ڈیمز ہیں۔ اگر طیش میں آ کر پاکستان بھی اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کا فیصلہ کر لیتا تو اس وقت آدھے سے زیادہ بھارت پانی میں ڈوبا ہوتا لیکن پاکستان نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے کہ اسے انڈین عوام سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔ 
بھارت کی یہ بدقسمتی ہے کہ اس پر مودی جیسا شیطانی ذہنیت کا حامل ایک فاشسٹ حکمران ہے جسے بھارت میں ہونے والے ہر الیکشن کے موقع پر پاکستان کے خلاف ڈرامے کرنے کی عادت ہے۔ موجودہ صورت حال کی وجہ بننے والا پہلگام واقعہ بھی مودی اور بھارتی ایجنسی را کا سٹیج کیا ہوا ڈراما تھا۔ مودی اس واقعے کی آڑ میں پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف عوام کے جذبات بھڑکا کر بہار کے الیکشن میں سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتا تھا۔ 
پاکستان کی مسلح افواج کی جانب سے کرارا جواب ملنے کے بعد مودی پاگل ہو کر تلملا رہا ہے۔ اس کے اقدامات نے اس وقت بھارت کو اقوامِ عالم میں تنہا کر دیا ہے۔ دوسری طرف بھارت کی طرف سے بزدلانہ گھٹیاپن کے مظاہرے نے پاکستان کے عوام کو ہی نہیں سیاسی لیڈرشپ کو بھی یکجان کر دیا ہے جبکہ مودی کو اپنے ہی ملک میں سیاست دانوں، دانش وروں، سرمایہ کاروں اور سول سوسائٹی کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ پاکستان نے سفارتی اور جنگی سطح پر بھارت کو چِت کر دیا ہے۔
اس وقت پاکستانی فوج بھارتی حملوں میں شہید ہونے والے شہداء￿  کے خون کا بدلہ لینے میں مصروف ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق یہ صرف ابتدائی ردِعمل ہے جو اپنے دفاع میں دیا جا رہا ہے۔ پاکستان جوابی حملے کے وقت، طریقہ کار اور مقام کا تعیّن خود کرے گا۔