ٹریفک پولیس لاہور نے ای چالان کے جرمانوں کی وصولی کو مؤثر بنانے کے لیے عدالت میں اہم تجاویز پیش کی ہیں۔
سیف سٹیز کیمروں سے کیے گئے ای چالانز کے جرمانے کی وصولی میں کمی دیکھنے کو ملی ہے، جس کی وجہ سے سسٹم اپنی افادیت کھو رہا ہے۔ پولیس حکام نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے مختلف تجاویز پیش کی ہیں، جن میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے ای چالان کی رقم کی کٹوتی کرنا شامل ہے۔ٹریفک پولیس نے تجویز دی ہے کہ تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے ای چالانز کی ادائیگی کے لیے کٹوتی کی جائے۔ اس سلسلے میں اکاونٹنٹ جنرل کو پابند کیا جائے کہ وہ تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتی کرے۔ اس کے علاوہ، ای چالان نادہندگان کو اہم سرکاری سہولتیں جیسے شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور دیگر دستاویزات بنوانے یا تجدید کرنے کی اجازت نہ دی جائے، جب تک وہ اپنے جرمانے ادا نہ کریں۔
پولیس نے یہ بھی تجویز کیا ہے کہ اگر کسی شہری کی گاڑی پر 10 سے زائد ای چالانز ہیں، تو ایسی گاڑی کو ضبط کر لیا جائے۔ اس کے علاوہ، تمام متعلقہ محکموں کو ہدایات دی جائیں کہ ای چالاننگ کے وصولی کے سسٹم کو بہتر بنایا جائے تاکہ جرمانوں کی وصولی میں اضافہ ہو اور شہریوں کی جانب سے قوانین کی خلاف ورزی کی روک تھام کی جا سکے۔یہ اقدامات اس لیے اٹھائے گئے ہیں کیونکہ ای چالانز کے ذریعے شہریوں کو ٹریفک قوانین کے بارے میں آگاہ کیا جاتا ہے، لیکن اس کے باوجود جرمانے کی ادائیگی میں کمی آئی ہے، جس کی وجہ سے ٹریفک پولیس کو اس سسٹم کی افادیت کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے۔