کشمیر و فلسطین امہ کے مسئلے،او آئی سی حل کرانے کے لیے کردار ادا کرے:بیرسٹرسلطان

 بھارت اور اسرائیل کا باہمی گٹھ جوڑ ، دونوں کے توسیع پسندانہ عزائم ہیں،صدر آزادکشمیرکاافطار ڈنر پرخطاب
اسلام آباد (آئی این پی)صدرریاست آزاد جموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چودھری نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین امہ کے مسئلے ہیں اور او آئی سی فسلطین اور کشمیر کے مسئلے حل کرانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے ۔ مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادیں اب بھی موثر ہیں اور پاکستان اور بھارت کے درمیان جب بھی مذاکرات ہوں تو یہ مذاکرات سہ فریقی ہونے چاہئیں اور اس میں کشمیری عوام کو بھی مذاکرات کی میز پر بٹھایا جائے۔ کیوں کہ مسئلہ کشمیر کے اصل اور اہم فریق کشمیری عوام ہیں۔ان خیالات کا اظہار صدر آزادجموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چودھری نے جمعہ کو ایوان صدر کشمیر ہائوس اسلام آباد میں اسلامی ممالک کے سفیروں کے اعزاز میں دئیے گئے افطار ڈنر کے موقع پرخطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ترکی، ایران ،ترکش سائپرس، آذربائیجان، تاجکستان، سوڈان، بحرین، لیبیا، افغانستان ، ازبکستان، کویت، انڈونیشیاء، شام، نائیجریا، کرغستان، بنگلا دیش،عراق، ملائشیاء، لبنان، صومالیہ، برونائی دارالسلام اور ترکمانستان کے سفیروں اور سفارتکاروں نے شرکت کی۔ افطار ڈنر میں ناروے کے سفیر پر البرٹ الساس، آسٹریاکی سفیراینڈریا وکی نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی۔  اس موقع پر صدر بیرسٹر سلطان محمود چودھری نے  اسلامی ممالک کے سفیروں کومقبوضہ کشمیر کی5اگست 2019سے اب تک کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا۔انہوں نے کہا کہ او آئی سی نے ہمیشہ کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی حمایت کی ہے اور اسی طرح مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پائمالی پر بھارت کی مذمت کرتے ہوئے اصولی موقف اپنایا ہے لیکن اب بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیرکے مسلمانوں پرظلم و جبر اور اسرائیل کی طرف سے فلسطین میں مسلمانوں کے قتل عام پر مزید موثر انداز میں کشمیر ی اور فلسطینی مسلمانوں کے حق میں آواز اُٹھائی جائے۔ کیوں کہ بھارت اور اسرائیل کا باہمی گٹھ جوڑ ہے اور دونوں کے توسیع پسندانہ عزائم ہیں۔ لہذا اُمہ مسئلہ کشمیر اورمسئلہ فلسطین حل کرانے کے لئے اپنا رول ادا کرے۔ جبکہ اسلامی ممالک انفرادی طور پر بھی مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارت کی ریشہ دوانیوں اور فلسطین میں اسرائیل کی بربریت کے خلاف اپنا کردار ادا کریں۔ ہم او آئی سی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بھارت پر دبائو ڈالے کہ وہ مسئلہ کشمیر حل کرے اور مقبوضہ کشمیرمیں جاری ظلم و بربریت بند کرے۔