راولپنڈی: بانی پی ٹی آئی عمران خان نے جیل سے پیغام دیا ہے کہ وہ 26ویں آئینی ترمیم، رول آف لا اور جمہوریت کے دفاع کے لیے احتجاج کو خود لیڈ کریں گے، عوام کو بھی اپنے لیے سڑکوں پر نکلنا ہوگا۔
اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے بعد ان کی بہن علیمہ خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "عمران خان نے کہا ہے کہ وہ جیل میں آزاد ہیں اور ہم لوگ جو باہر ہیں وہ قید میں ہیں۔"علیمہ خان کے مطابق عمران خان کو جیل میں بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے،"ان کے پاس ٹی وی، اخبار، یہاں تک کہ پڑھنے لکھنے کا سامان بھی نہیں، وہ جیل میں ایک بہترین کتاب لکھ سکتے تھے۔" انہوں نے مزید کہا کہ:"10 محرم گزر گیا ہے، اب پارٹی لائحہ عمل دے گی۔ عمران خان نے اپنی فیملی کو پلان دے دیا ہے، جب وقت آئے گا تو میڈیا کو بھی آگاہ کریں گے۔"
ملاقات اور رکاوٹیں
علیمہ خان، ان کی بہنوں نورین اور عظمیٰ سمیت کئی قریبی رفقا نے اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کیا۔علیمہ خان کو پہلے روک دیا گیا تھا لیکن بعد میں کچھ اہل خانہ اور وکلا کو ملاقات کی اجازت دی گئی، جن میں وکیل سلمان صفدر، بیرسٹر گوہر اور چیئرمین پی ٹی آئی کے دیگر قانونی مشیر شامل تھے۔
حکومتی رویے پر تنقید
علیمہ خان نے کہا کہ:"یہ مریم نواز کے شوق پورے کرنے کے لیے ہمیں روکا جاتا ہے۔ اسمبلی میں 26 ممبران کو معطل کیا گیا تاکہ وہ خوش ہو جائیں۔"
سلمان صفدر کی وضاحت
بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ عدالتوں میں مقدمات بھرپور طریقے سے لڑے جا رہے ہیں۔صحافی کی جانب سے 26 کروڑ روپے فیس کے سوال پر انہوں نے مختصر جواب دیا کہ:"اس پر واپسی میں بات کریں گے۔"
پس منظر
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو قید میں 700 دن سے زائد ہو چکے ہیں، اور حکومت و عدالتوں کے رویے پر پی ٹی آئی کی قیادت مسلسل تنقید کر رہی ہے۔ عمران خان کی جیل سے براہ راست احتجاج لیڈ کرنے کی بات پارٹی کے نئے سیاسی موڑ کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔