ویب ڈیسک: آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر خواجہ فاروق کو پولیس نے گھر میں نظر بند کر دیا، جب کہ مختلف مقامات پر احتجاج کرنے والے پی ٹی آئی کارکنوں کے خلاف بھی کارروائیاں جاری ہیں۔
آزاد کشمیر میں گرفتاریوں کا سلسلہ
اسسٹنٹ کمشنر کے مطابق احتجاج کے دوران نعرے بازی اور دھرنا دینے والے 16 پی ٹی آئی کارکنوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان کارکنوں کو امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کے خدشے کے پیش نظر حراست میں لیا گیا ہے۔
ملتان میں پی ٹی آئی رہنماؤں کی گرفتاریاں
دوسری جانب ملتان میں بھی پولیس نے پی ٹی آئی رہنماؤں مہر بانو قریشی، زاہد بہار ہاشمی اور دلیر مہار کو دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق تینوں رہنماؤں کو پل چھٹہ کے مقام پر عوامی اجتماع منعقد کرنے پر حراست میں لیا گیا۔
مزید کارکن بھی گرفتار
پولیس حکام کے مطابق ریلی نکالنے پر پی ٹی آئی کے مزید 10 سے زائد کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد پر قانون کی خلاف ورزی اور امن و امان میں خلل ڈالنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
سیاسی صورتحال مزید کشیدہ
پی ٹی آئی قیادت نے ان گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے سیاسی انتقام قرار دیا ہے اور فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت اپوزیشن کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن وہ اپنے حقوق کے لیے قانونی جنگ جاری رکھیں گے۔یہ کارروائیاں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب ملک میں سیاسی کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، اور اپوزیشن جماعتیں احتجاجی تحریک تیز کرنے کا عندیہ دے رہی ہیں۔