دہلی انتخابات: بی جے پی کی تاریخی فتح، 27 سال بعد حکومت بنانے کی تیاری

دہلی انتخابات: بی جے پی کی تاریخی فتح، 27 سال بعد حکومت بنانے کی تیاری

ویب ڈیسک: دہلی اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے 70 میں سے 47 سے زائد نشستیں جیت کر دہلی میں 27 سال بعد حکومت بنانے کی راہ ہموار کرلی ہے۔

عام آدمی پارٹی کو بڑا دھچکا، اروند کیجریوال شکست سے دوچار
انتخابات کے نتائج عام آدمی پارٹی (AAP) کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوئے، جو صرف 23 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔دہلی کے سابق وزیراعلیٰ اروند کیجریوال اپنی روایتی نشست نئی دہلی سے الیکشن ہار گئے، جو ان کے لیے ایک بڑا سیاسی نقصان ہے۔سابق نائب وزیراعلیٰ منیش سسودیا کو بھی جنگ پورہ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

کانگریس کا مکمل صفایا
راہول گاندھی کی جماعت کانگریس ایک بھی نشست پر کامیاب نہیں ہوسکی، جو دہلی کی سیاست میں اس کی مسلسل گرتی ہوئی ساکھ کی عکاسی کرتی ہے۔

ووٹنگ ٹرن آؤٹ اور سیاسی تجزیہ
دہلی انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ 60.42 فیصد رہا، جو 2020 کے مقابلے میں کم تھا۔بی جے پی کی اس جیت کو دہلی کی سیاست میں ایک بڑا موڑ قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ دہلی میں عام آدمی پارٹی گزشتہ دس سال سے اقتدار میں تھی۔بی جے پی کی جیت کو وزیر اعظم نریندر مودی کی مقبولیت اور پارٹی کی جارحانہ انتخابی مہم سے جوڑا جا رہا ہے، جس میں عوامی فلاحی منصوبوں اور ترقیاتی ایجنڈے کو نمایاں کیا گیا۔

عام آدمی پارٹی کے بڑے رہنما بھی شکست خوردہ
2015 سے دہلی پر حکمرانی کرنے والی عام آدمی پارٹی کے کئی بڑے چہرے اس بار الیکشن ہار گئے:سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال (نئی دہلی حلقہ)سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا (جنگ پورہ حلقہ)کئی دیگر وزراء اور سینئر رہنما بھی اپنی نشستیں بچانے میں ناکام رہے۔

بی جے پی کا ردعمل اور آئندہ حکمت عملی
بی جے پی رہنماؤں نے اس جیت کو دہلی کے عوام کی "بدلاؤ کی خواہش" کا نتیجہ قرار دیا ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ دہلی کے عوام نے "ترقی، شفاف حکومت اور مضبوط قیادت" کو ووٹ دیا ہے۔بی جے پی دہلی میں حکومت بنانے کے لیے وزیر اعلیٰ کے نام پر غور کر رہی ہے، اور جلد نئی کابینہ تشکیل دی جائے گی۔

اختتامیہ
دہلی کے انتخابات نے عام آدمی پارٹی کے لیے ایک بڑا جھٹکا ثابت کیا ہے، جبکہ بی جے پی کی جیت دہلی کی سیاست کا رخ بدلنے کا اشارہ دے رہی ہے۔ کانگریس کا مکمل صفایا اس بات کی علامت ہے کہ دہلی میں سیاست اب بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کے درمیان ہی مرکوز ہو چکی ہے۔