زرمبادلہ ذخائربڑھنے اوربیرونی فنانسنگ کی ضرورت میں کمی جولائی میں مثبت ریٹنگ کا سبب ہوسکتی ہے‘معاشی نمو 3 فیصد رہنے کا امکان
اوسط مہنگائی جون تک 24 فیصد تھی جو جنوری میں 2 فیصد سے کچھ زائد رہی‘ آئی ایم ایف جائزے میں تاخیر منفی ریٹنگ کا سبب ہوسکتی ہے
کراچی(آئی این پی ) معاشی درجہ بندی کے ادارے فچ نے کہا ہے پاکستان کی معاشی سرگرمیاں مستحکم اور شرح سود میں کمی سے بہتر ہورہی ہیں۔ پاکستان کے حوالے سے اپنی رپورٹ میںفچ نے کہا کہ پاکستان معاشی استحکام کی بحالی پر پیشرفت کررہا ہے، پاکستان کی ساختی اصلاحات میں پیشرفت اس کے قرض پروفائل کے لیے اہم ہے، مشکل اصلاحات پرپیشرفت آئی ایم ایف جائزے، دوطرفہ اورکثیرجہتی فنانسنگ کے لیے ہے۔ فچ رپورٹ کے مطابق سٹیٹ بینک کا شرح سود 12 فیصد کرنا صارف مہنگائی کم ہونے کی دلیل ہے، اوسط مہنگائی جون تک 24 فیصد تھی جو جنوری میں 2 فیصد سے کچھ زائد رہی۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ معاشی سرگرمیاں مستحکم اور شرح سود میں کمی سے بہتر ہورہی ہیں جب کہ معاشی نمو 3 فیصد رہنے کے اندازے ہیں۔اس کے علاوہ ترسیلات، زرعی برآمدات، سخت مانیٹری پالیسی سیکرنٹ اکائونٹ کھاتہ 1.2ارب ڈالرسرپلس رہا، زرمبادلہ ذخائر 3 ماہ کی درآمدات کے مساوی ہیں مگر ذخائر مالی ضرورت سے کم ہیں۔رپورٹ کے مطابق مالی سال 25-2026 میں 22 ارب ڈالر کی ادائیگیاں ہیں، مجموعی ادائیگیوں میں 13 ارب ڈالر دوطرفہ ڈپازٹس ہیں جو ہمارے خیال میں رول اوور ہوں گے۔