یوکرین نے اس ہفتے واشنگٹن میں ایک اعلیٰ سطحی وفد بھیجنے کا اعلان کیا ہے تاکہ امریکا کے ساتھ معدنیات (منرلز) کے معاہدے پر مزید پیشرفت کی جا سکے۔
یوکرین کی نائب وزیر اعظم یولیا سویریڈینکو نے سوشل میڈیا پر اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکا کے ساتھ منصوبوں کے انتخاب، قانونی فریم ورک اور طویل المدتی سرمایہ کاری کے طریقہ کار پر ہم آہنگی چاہتے ہیں۔یوکرین اور امریکا کے درمیان ہونے والا یہ معاہدہ اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ امریکا نے یوکرین سے اس کے مستقبل کے معدنی ذخائر سے حاصل ہونے والی آمدنی میں بڑا حصہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ معاہدہ امداد کے بدلے حاصل کیے جانے والے مفادات کا حصہ ہے، تاکہ امریکا کو یوکرین کی جنگ میں دی جانے والی مالی امداد کا ریٹرن مل سکے۔یوکرین کی قیادت اپنے اتحادی امریکا کی حمایت کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے قدرتی وسائل کو مکمل طور پر گروی رکھنے سے بھی بچنا چاہتی ہے۔
مارچ کے آخر میں امریکا نے یوکرین کو ایک نیا، زیادہ وسیع معاہدہ پیش کیا جس میں امریکا کو بڑے مالیاتی حقوق کی پیشکش کی گئی تھی۔یوکرینی نائب وزیر اعظم سویریڈینکو نے کہا کہ یوکرین کے وفد میں معیشت، خارجہ، انصاف اور خزانہ کی وزارتوں کے نمائندے شامل ہوں گے۔ یہ مذاکرات دونوں ممالک کے "اسٹریٹیجک مفادات اور شفاف شراکت داری کے عزم" کا حصہ ہیں۔ اس معاہدے کا مقصد یوکرین کی اقتصادی ترقی اور اس کے معدنی ذخائر کے درست استعمال کی ضمانت دینا ہے، ساتھ ہی امریکا کی حمایت اور شراکت داری کو بھی مستحکم کرنا ہے۔