90کی دہائی میں جب انڈر ورلڈ کی طرف سے شاہ رخ خان کو دبا ئومیں لانے کی کوشش کی گئی اور انکی مرضی کیخلاف کام کرنے کا حکم دیا گیا:سنجے گپتا
ممبئی (شوبز ڈیسک) بالی ووڈ کی فلمی دنیا میں ایک ایسا دور بھی گزرا ہے جب انڈر ورلڈ اور گینگسٹرز کا اثر و رسوخ عروج پر تھا اور اکثر فنکاروں اور ہدایتکاروں کو اپنی مرضی کے پراجیکٹس سائن کرنے یا نہ کرنے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جاتی تھیں۔ ان نامساعد حالات میں جہاں کئی نامور ستارے خوف کا شکار ہو جاتے تھے، وہیں بولی ووڈ کے کنگ خان شاہ رخ خان نے اپنی بے باکی اور شجاعت کی ایسی مثال قائم کی جو آج بھی فلمی تاریخ میں یاد رکھی جاتی ہے۔معروف ہدایتکار سنجے گپتا نے حسین زیدی فائلز پوڈ کاسٹ میں اس پرانی اور سنسنی خیز کہانی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ 90کی دہائی میں جب انڈر ورلڈ کی طرف سے شاہ رخ خان کو دبا ئومیں لانے کی کوشش کی گئی اور ان کی مرضی کے خلاف کام کرنے کا حکم دیا گیا، تو اداکار نے کسی بھی قسم کے خوف کو پاس آنے نہیں دیا۔سنجے گپتا کے مطابق، انڈسٹری میں شاہ رخ خان وہ واحد شخصیت تھے جنہوں نے انڈر ورلڈ کی دھمکی کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ میں پٹھان ہوں، کسی سے نہیں ڈرتا، اگر تم مجھ سے خوفزدہ کرنا چاہتے ہو تو گولی مار دو، لیکن میں تمہارے کہے پر نہ تو کوئی کام کروں گا اور نہ ہی کسی شو کا حصہ بنوں گا۔