گزشتہ چند ہفتوں سے سوشل میڈیا پر یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ اس موسمِ سرما پاکستان سمیت دنیا کے کئی حصوں میں غیر معمولی سخت سردی پڑے گی۔
اس کے پیچھے بنیادی وجہ بحرالکاہل کے پانیوں میں پیدا ہونے والا موسمیاتی رجحان "لا نینا" (La Niña) بتایا جا رہا ہے۔ماہرین موسمیات کے مطابق، لا نینا ایک قدرتی مظہر ہے جو اس وقت پیدا ہوتا ہے جب بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی حصوں میں سمندر کا درجہ حرارت معمول سے کئی درجے کم ہو جاتا ہے۔ اس عمل سے دنیا بھر کے موسموں پر اثر پڑتا ہے؛ بعض خطوں میں بارشیں بڑھ جاتی ہیں جبکہ کچھ علاقوں میں خشک سالی ہو جاتی ہے۔ پاکستان اور جنوبی ایشیا میں لا نینا کے اثرات کے دوران عموماً سردیاں طویل اور نسبتاً خشک ہوتی ہیں۔ماہرین نے واضح کیا ہے کہ اگرچہ سوشل میڈیا پر پیشگوئیوں میں کچھ حقیقت ہے، لیکن یہ کہنا درست نہیں کہ درجہ حرارت ماضی کے ریکارڈ توڑ دے گا۔ ان کے مطابق رواں سال سردی زیادہ محسوس ہوگی، لیکن بارشوں کی کمی کے باعث یہ خشک سردی ہوگی۔ جب آسمان صاف ہوتا ہے اور بادل نہیں ہوتے، تو دن کے وقت دھوپ کم محسوس ہوتی ہے اور رات کے وقت درجہ حرارت تیزی سے گر جاتا ہے، جس کی وجہ سے سردی زیادہ محسوس ہوتی ہے۔
لا نینا نہ صرف موسمی تبدیلی کا مظہر ہے بلکہ ایک انتباہ بھی ہے کہ سخت موسم کے اثرات زیادہ تر اُن طبقات پر پڑتے ہیں جو پہلے ہی کمزور ہیں۔ ماہرین نے شہری انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ بے گھر افراد اور خستہ حال بستیوں کے لیے پیشگی اقدامات کرے، تاکہ سردی کے شدید اثرات کم سے کم ہوں۔اس طرح، اگر پیشگوئیاں درست ثابت ہوئیں تو کراچی سمیت کئی شہروں میں درجہ حرارت معمول سے کم ہو سکتا ہے، اور شہری انتظامیہ کو اس کے لیے تیار رہنا ضروری ہے۔