ٹرانسپورٹ کمپنی اور ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے مختلف آپریشنل طریقہ کار ،تضاد کا خدشہ
لاہور (خصوصی رپورٹ)لاہور میں الیکٹرک بسوں کا نظام دو مختلف اداروں کے تحت چلنے لگا۔پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی اور پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی اب شہر کے مختلف روٹس پر الیکٹرک بسیں چلا رہی ہیں۔وزیراعلیٰ مریم نواز کے احکامات پر الیکٹرک بس سروس کا دائرہ کار بڑھایا جا رہا ہیتاہم دو اداروں میں آپریشنل تقسیم سے ہم آہنگی کے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ لاہور میں ماحول دوست الیکٹرک بس سروس تیزی سے وسعت اختیار کر رہی ہیتاہم اب شہر میں یہ نظام دو مختلف اداروں کے تحت چلایا جا رہا ہے۔پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی کے سپردپائلٹ پروجیکٹ گرین ٹاو?ن سے ریلوے سٹیشن تک چل رہا ہے،جسکے تحت 27 الیکٹرک بسیں پہلے ہی سڑکوں پر رواں دواں ہیں۔یہ منصوبہ ٹرانسپورٹ کمپنی فروری سے چلا رہی ہے۔دوسری جانب وزیراعلیٰ کے حالیہ افتتاح کے بعدشہر میں مزید 40 الیکٹرک بسیں چلائی گئی ہیں،جنکے روٹس کی ذمہ داری پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے سپرد کی گئی ہے۔یہ نئی الیکٹرک بسیں علی ٹاو?ن اورنج لائن سٹیشن سے رائیونڈ تک چلائی جا رہی ہیں جبکہ انہیں اورنج لائن ٹرین کے فیڈر روٹس کے طور پر منسلک کیا گیا ہے۔کینال روٹ کو بھی الیکٹرک بس سروس کے ذریعے فعال کر دیا گیا ہے،جسکے تحت جناح بس ٹرمینل ٹھوکر نیاز بیگ سے ہربنس پورہ تک بسیں رواں دواں ہیں۔یہ پہلا موقع ہے کہ لاہور میں دو مختلف ادارے الیکٹرک بسوں کا نظام چلا رہے ہیں۔ پی ٹی سی اور پی ایم اے کے الگ الگ انتظامی کنٹرول سیٹرانسپورٹ سسٹم کی ہم آہنگی باریخدشات بڑھ گئے ہیں۔ماضی میں 2011 میں لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کے قیام پرشہر کے تمام پبلک ٹرانسپورٹ روٹس اسی کے سپرد کیے گئے تھے۔اب پہلی بار مخصوص روٹس پی ایم اے کو دیئے گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق دو مختلف اداروں کے آپریشنل طریقہ کاراور شیڈولنگ کے فرق سے مسافروں کو کنفیوڑن کا سامنا ہو سکتا ہے۔روٹس، مینٹیننس اور مانیٹرنگ معاملات میں تضاد پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ مزید الیکٹرک بسیں لاہور میں شامل کی جائینگی تاہم ابھی تک واضح نہیں ہو سکا کہ انکی آپریشنل ذمہ داری پی ٹی سی کے پاس ہوگی یا پی ایم اے کے تحت۔ماہرین کے مطابق الیکٹرک بس سسٹم کے پائیدار اور موثر آپریشن کیلئے مرکزی ادارے کے تحت نظم ناگزیر ہے۔