نیاماسٹر پلان نہ ہونے سے مسائل مزید بڑھنے کا امکان

منصوبے میں جدید شہری منصوبہ بندی کے متعدد ماڈلز بھی تجویز کیے گئے 
لاہور (کرائم رپورٹر)لاہور ڈویژن ماسٹر پلان 2050، ایک بار پھر ادارہ جاتی اور قانونی مراحل سے گزر رہا ہے۔ ایل ڈی اے گورننگ باڈی نے لاہور ہائی کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں ماسٹر پلان کی تکمیل کے عمل کو آگے بڑھانے کی اجازت دے دی ہے۔ اتھارٹی نے انٹرنیشنل کنسلٹنٹ کی جانب سے پیش کیے گئے طریقہ کار سے اصولی اتفاق کیا تاہم مجوزہ مالیاتی تخمینہ ابتدائی لاگت سے زیادہ ہونے پر اس پر نظرثانی کی ہدایت جاری کر دی گئی۔اتھارٹی نے چیف میٹروپولیٹن پلانر ایل ڈی اے کو ذمہ داری سونپی ہے کہ مالیاتی تخمینے اور مجوزہ ٹائم لائنز کا ازسرنو جائزہ لے کر انہیں ریشنلائز کیا جائے اور پھر اس معاملے کو دوبارہ اتھارٹی کے سامنے پیش کیا جائے۔لاہور ڈویڑن ماسٹر پلان 2050 دراصل ایک جامع شہری منصوبہ ہے جس میں لاہور ڈویڑن کا ریجنل پلان اور ضلع لاہور سمیت 49 شہری بستیوں کے ماسٹر پلان شامل ہیں۔ تاہم اس منصوبے کا نوٹیفکیشن پہلے ہی لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے کالعدم قرار دیا جا چکا ہے جس کے بعد ایل ڈی اے فی الحال 2016 کے ماسٹر پلان کے تحت کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ ماہرین کے مطابق نیا ماسٹر پلان نہ ہونے کی صورت میں شہری پھیلائو بے ترتیب ہونے، کچی آبادیوں میں اضافے، ٹریفک دبائو، ماحولیاتی آلودگی اور زرعی اراضی کے تیزی سے خاتمے جیسے مسائل مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔