لاہور(نیٹ نیوز)رواں برس تواتر کے ساتھ سمندر اور آبی حیات سے متعلق کچھ ایسے غیر معمولی واقعات ہوئے ہیں جس سے کئی قیاس ا?رائیوں نے جنم لیا ہے۔رواں سال 2025 کی ابتدا سے سمندر اور ا آبی حیات سے متعلق کچھ غیر معمولی واقعات تسلسل کے ساتھ رونما ہو رہے ہیں جس کے باعث مختلف قیاس ا?رائیاں جنم لے رہی ہیں۔سال کے پہلے ماہ جنوری میں نایاب اینگلر فش کو پہلی بار سطح سمندر میں دیکھا گیا جب کہ یہ مچھلی گہرے پانی میں 200 سے 2 ہزار فٹ کی گہرائی میں پائی جاتی ہے، جہاں سورج کی روشنی نہیں پہنچ پاتی۔اسی طرح میکسیکو کے ساحل پر بھی حیرت انگیز طور پر اورفش دیکھی گئی۔ یہ مچھلی بھی سمندر میں 15 ہزار میٹر کی گہرائی میں تاریک ماحول میں رہتی ہے اور شاذ ونادر ہی سطح ا?ب پر ا?تی ہے۔اسپین کے ساحل پر چمکدار لمبی مچھلی نمودار ہوئی جس کو قیامت کی مچھلی بھی کہا جاتا ہے۔اسی طرح گزشتہ ماہ ا?سٹریلوی ساحلوں پر ڈیڑھ سو سے زائد ویلز مردہ حالت میں پائی گئیں۔اس کے علاوہ دنیا کے دیگر ممالک کی ساحلی پٹی پر بھی معمول سے ہٹ کر کئی مناظر دیکھے گئے ہیں۔ اس کے بعد سوشل میڈیا پر یہ معاملہ نہ صرف زیر بحث ہے بلکہ اس حوالے سے مختلف قیاس ا?رائیاں بھی کی جارہی ہیں۔کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ سمندر میں کچھ بڑا اور خطرناک ہونے والا ہے اس لیے نایاب آبی حیات سطح سمندر پر آرہی ہیں، جبکہ کچھ سوشل میڈیا صارفین اسے ایک خوفناک سمندری مخلوق لیوی ایتھن سے جوڑ رہے ہیں۔اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ گہرے پانیوں کی مخلوق کا ساحل سمندر پر آنا صرف موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہے۔