سید منیر حسین گیلانی
فلاحی ریاست میں ترجیح عوام ہوتے ہیں، مگر بدقسمتی سے ہم فلاحی ریاست نہیں بن سکے۔ حکومتوں کی ترجیحات میں عوام فلاح و بہبود کی بجائے اشرافیہ اور برسراقتدار طبقے کی مراعات ہیں۔ جن کے لئے وسائل ہی نہیں سڑکوں اورترقیاتی منصوبوں کا رخ بھی موڑ دیا جاتا ہے۔ لاہور قدیمی اور تاریخی شہر ہے۔ جس کی سڑکوں اور دیواروں سے تقسیم برصغیر سے پہلے مغلیہ دور حکومت، رنجیت سنگھ اور برطانوی سامراج کے نقوش نظر آتے ہیں۔ والڈ سٹی یعنی اندرون شہرکے اندر پرانے گھر، عالیشان حویلیاں اور بوسیدہ عمارتیں بھی ہیں۔ یہاں کے رہنے والے اپنی ضرورت کے مطابق ان عمارتوں میں تبدیلیاں اور تزئین و آرائش کرتے رہتے ہیں، لیکن اندرون شہر سے باہر جب لاہور نے اپنی وسعت، خوبصورتی اور جدیدیت کو اپنایا تو صاحب وسائل لوگوں نے یہاں گھر بنانا شروع کیے۔ تقسیم برصغیر سے بھی پہلے ماڈل ٹاون تشکیل پایا، جہاں خوبصورت، منظم اور بڑے گھروں کی تعمیرات کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد سمن آباد، علامہ اقبال ٹاون، گارڈن ٹاون، گلبرگ، مسلم ٹاون، ڈیفنس اور دیگر کئی خوبصورت رہائشی سکیمیں بنتی گئیں، جن کی بغل میں چھوٹی اور غریب بستیاں پہلے سے موجود تھیں یا بعد میں بنیں۔ جن میں سے ایک میں چند دن پہلے کاہنہ کے علاقے میں تقریباً تین مرلے کے گھر میں اپنا پیٹ پالنے کے لئے ایک خاتون ٹیچر کے ٹیوشن سینٹر میں حادثہ پیش آیا۔ اس استانی کا شوہر فروٹ کی ریڑھی لگا کر اپنا گزر اوقات کرتا ہے، جبکہ وہ ٹیوشن پڑھا کر اس کا ساتھ دیتی ہے۔ مون سون سے پہلے حفظ ماتقدم کے تحت گھر کی چھتوں کو مضبوط کرنے کی غرض سے کہ کہیں بارش کا پانی ٹپک نہ جائے، کمرے کی چھت کو مرمت کرانے کا کام شروع کروایا تھا۔ غربت، پسماندگی اور لاعلمی کی وجہ سے لوہے کے کمزور گارڈرز استعمال کئے گئے، جن کے اوپر ٹائلیں اور ٹائلوں کے اوپر مٹی ڈال کر بارش سے بچنے کے اقدامات کر رہے تھے، مزدوروں کا بوجھ کمزور گارڈر برداشت نہ کر سکے تو چھت گرگئی۔ جس سے بیس میں سے چودہ بچے جاں بحق ہوگئے۔ بچوں کی عمروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ ماوں نے ارد گرد کے ماحول سے متاثر ہو کر کہ ہمارے بچے بھی ٹیوشن پڑھ کر مستقبل کو سنواریں گے اور اچھی نوکری ملے گی تو بڑھاپے میں سہارا بنیں گے، حالانکہ چھوٹی کلاس کے بچوں کو مائیں خود جہاں گھر پر ہی تربیت دیتی ہیں اور تعلیم بھی دے سکتی تھیں۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا اور ایک کمرے پر مشتمل ٹیوشن سنٹر میں بچے بھجوانا شروع کردیئے۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ قریب ہی امیروں کی بڑی بڑی جدید کالونیوں میں سرونٹ کوارٹر بھی محفوظ لنٹر سے بنائے جاتے ہیں۔ ہمارا عمومی معاشرتی رویہ اپنی جگہ لیکن کیا ان چھوٹے چھوٹے مسائل پر حکومت کو توجہ نہیں دینی چاہیے یا ہم موجودہ حالات کے تحت اپنی اپنی زندگی گزارنے کے لیے مطمئن ہو کر آگے بڑھتے رہیں گے؟ حیران ہوں کہ کیا کوئی ایسا طریقہ اختیارنہیں کیا جا سکتا کہ ایسی بستیوں میں غریبوں کے چھوٹے گھروں کو حکومت اپنی نگرانی میں تعمیر کروائے؟ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ان کچے گھروں کی نشاندہی کرنے کے بعد حکومت ایسا فنڈ قائم کرے کہ جس سے غریبوں کے گھر بن سکیں، انہیں سود پر قرض لینے کی ضرورت نہ پڑے۔ تاکہ ناقص میٹریل سے گھر بننے رک جائیں اور معصوم بچوں کی زندگیاں بھی محفوظ ہو جائیں۔ ہمیں معاشرے میں شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نئے انداز سے
عوام کو سہارا دینے کی تمنا پیدا ہو۔ جہاں پر اس قسم کے کمزور گھر بنے ہوئے ہیں ان کی دیکھ بھال اور مرمت قریبی ہاوسنگ سوسائٹیوں کے امیر لوگوں کے ذمے لگائی جائے۔ ایسے گھروں کا سروے کیا جائے اور بعد میں بوسیدہ مکانوں کی تعمیر و مرمت میں اپنا حصہ ڈالیں۔ یہ خدائی حکم بھی ہے اور اسلامی معاشرے کی اقدار بھی یہاں سے شروع ہوتی ہیں۔ ہجرت مدینہ کے موقع پر مواخات کا مشہور واقعہ ہر کسی کو یاد ہوگا۔ سردارالانبیاء نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مواخات کے جذبے کی مثال شاید تاریخ انسانی میں کہیں نہیں ملتی۔ انصار مدینہ نے اپنے گھر کا آدھا سامان اور تجارت میں حصہ مہاجرین کو دے دیا، جس کے پاس ایک سے زیادہ گھرتھے اس نے ایک گھر اپنے مہاجربھائی کو دے دیا اگر کمرے زیادہ ہیں تو ایک مہاجرین کو دے دیا۔ یہاں تک کہ کہا جاتا ہے کہ انصار نے پیشکش کی کہ جس کی دو بیویاں تھیں تو ایک کو طلاق دے کر اس کی شادی مہاجر سے کروا دی۔ یہ جذبہ نبی پاک کی قیادت میں مدینے کے مہاجرین کو تحفظ دینے اور انہیں اپنے برابر لانے کے لیے کیا گیا۔ کیا مواخات مدینہ کا جذبہ ہم پاکستان میں رواج دے سکتے ہیں؟ عزم اور جذبہ ہو تو غریب علاقے حکومت امیر علاقوں کے حوالے کرسکتی ہے۔ مثلاً اگر کسی علاقے کے 10 گھروں کی چھتیں اور دیواریں بنانی مقصود ہیں تو ڈیفنس کے رہائشیوں میں تقسیم کر دی جائیں کہ یہ گھر آپ نے بنوانے ہیں۔ ان پوش علاقوں کی انتظامی کمیٹیاں فنڈز اکٹھے کرکے غریبوں کی مدد کر سکتی ہیں۔ معذرت کے ساتھ ذرا غور کریں کہ ہم درباروں، اولیا اللہ کے عرسوں اورسالانہ مذہبی تقریبات پرکتنا زیادہ خرچ کرتے ہیں تو کیا ہم ان اخراجات میں سے صرف دس فیصد کمی کرکے ان غریبوں پر خرچ نہیں کر سکتے، کہ جن کے بچے تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں یا فاقہ کشی پر مجبور ہوتے ہیں، یا کسی کوروزگار فراہم کرانے میں مدد گار ثابت ہوسکتے ہیں۔ ہم میں سے کتنے ایسے لوگ ہیں جو ہر سال حج و زیارات پر سعودی عرب، عراق اورایران جاتے ہیں۔ کیا ہم کسی ایک حج یا زیارت پر ہونے والے اخراجات کو ان غریبوں پر خرچ کر سکتے ہیں، جو مستحق ہیں۔ قرآن حکیم کی رو سے زندگی میں حج صرف ایک دفعہ واجب کیا گیا ہے، وہ بھی صاحب استطاعت پر باقی نفلی حج ہیں تو کیا نفلی حج کے اخراجات ہم ان غریبوں پر نہیں لگا سکتے ہیں؟ اسی طرح رمضان المبارک میں پْرتکلف افطاریوں پر جتنا ہم خرچ کرتے ہیں، کیا ان میں سے ہم کچھ اخراجات غریبوں کو نہیں دے سکتے۔ اس معاشرتی تفاوت کو دور کرنے کے لیے ہمیں دل کھول کر صرف حکومت ہی نہیں معاشرے کی سطح پر بھی ایسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ میں اکثر ایران کی مثالیں اس لیے دیتا ہوں کہ انقلاب اسلامی کے بعد ایران نے امریکی پابندیوں کے باوجود خود ایک قوم بن کر دکھایا ہے۔ اور میں نے وہ چیزیں اپنی انکھوں سے دیکھی ہیں۔1980ء کی دہائی میں ایران عراق جنگ کے دوران ابادان سمیت متعدد شہر تباہ ہوئے، ان کی تعمیر نو اور مرمت کے لیے مختلف بڑے امیر شہروں کے ذمہ لگا ئی گئی۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ ابادان کا خوبصورت شہر تباہ ہوا تو اس کی تعمیر نو تہران کے ذمے لگائی گئی۔ اسی طرح سے اصفہان، تبریز اور دیگر شہروں کے ذمے تباہ ہونے والے شہروں کی مرمت لگائی گئی۔ لیکن حیرت کہ ہم حج و زیارات پر ہر سال جاتے ہیں لیکن ہمارا کوئی بھائی، رشتہ دار، ہمسایہ اور دوست جو بہت غریب ہوتا ہے ہم اس کی مدد نہیں کرتے۔ تو کیا اللہ تعالیٰ ہماری عبادات کو قبول کرے گا؟ میرا خیال ہے، نہیں!۔۔