ویب ڈیسک: سابق جج ارشد ملک کی اہلیہ کی پنشن کے لیے دائر درخواست پر لاہور ہائیکورٹ کے پانچ رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی۔
عدالت نے رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی ہدایت کر دی۔درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ جج ارشد ملک کو لاہور ہائیکورٹ نے برطرف کیا تھا، جب کہ وہ سیاسی شخصیات کے ریفرنسز سن رہے تھے۔ وکیل نے مزید بتایا کہ ارشد ملک کی برطرفی کے خلاف اپیل زیرِ التوا تھی، لیکن ان کے انتقال کے باعث وہ کیس آگے نہیں بڑھ سکا۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے دورانِ سماعت ریمارکس دیے کہ "جج کا کیا کام ہے کہ وہ سیاسی افراد سے گھروں میں ملاقاتیں کرے؟" وکیل درخواست گزار نے انسانی بنیادوں پر استدعا کی کہ ارشد ملک کی برطرفی کو جبری ریٹائرمنٹ میں تبدیل کیا جائے تاکہ ان کی اہلیہ پنشن کی حقدار ہو سکے۔یاد رہے کہ ارشد ملک کو ویڈیو اسکینڈل کے بعد برطرف کیا گیا تھا۔ وہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز کی سماعت کر رہے تھے۔ کیس کی سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بینچ نے کی، جو آئندہ سماعت میں مزید دلائل سنے گا۔