9 مئی اور 24 نومبر کا احتساب نہ ہوا تو مستقبل کے لیے خطرات بڑھ جائیں گے

 9 مئی اور 24 نومبر کا احتساب نہ ہوا تو مستقبل کے لیے خطرات بڑھ جائیں گے

وزیردفاع خواجہ آصف نے 9 مئی اور 26 نومبر کی بغاوتوں کے حوالے سے ایک انٹرویو میں کہا کہ ان واقعات کا احتساب نہ ہونے کی صورت میں مستقبل کے لیے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔

 خواجہ آصف کے مطابق، اگر 9 مئی کے واقعات کا احتساب درست طریقے سے کیا جاتا، تو اس معاملے کا حل پہلے ہی ہو چکا ہوتا، مگر انہیں عدالتی سرپرستی ملنے کی وجہ سے یہ پیچیدہ ہوگیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جن افراد کو بری ہونا تھا، وہ بری ہو گئے، اور جنہیں سزا دینی تھی، انہیں سزا دی گئی، مگر بدقسمتی سے اس وقت عدلیہ ایک طرف ہو چکی تھی۔خواجہ آصف نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 9 مئی اور 26 نومبر کو ملک کے خلاف بغاوتیں کیں، اور اس حوالے سے تمام شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے پہلے بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا، لیکن اب ان کے ٹی وی پروگراموں میں بھی تمام شواہد موجود ہیں جو ان کی بغاوت کو ثابت کرتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پی ٹی آئی عدلیہ سے وہی سرپرستی چاہتی ہے جو 9 مئی کے بعد ان کو ملی تھی۔

عمران خان کے بیان پر کہ پاکستان میں ترسیلات زر روکنے کی کوشش کی جائے، خواجہ آصف نے کہا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں 65 لاکھ سے زائد پاکستانی مقیم ہیں، اور وہ اپنے وطن کی وفاداری کو ترجیح دیں گے، نہ کہ عمران خان کی سیاست کو۔ انہوں نے کہا کہ سمندر پار پاکستانی اپنی محنت سے پیسے بھیجتے ہیں اور یہ ترسیلات زر نہیں رکیں گی، چاہے عمران خان جو بھی کوشش کریں۔ انہوں نے علی امین گنڈا پور کے اسلام آباد آنے کے حوالے سے بھی تبصرہ کیا، اور کہا کہ وہ کسی سیاسی مقصد یا ولیمے کے لیے نہیں آئے تھے، بلکہ اسلحہ کے ساتھ آئے تھے۔