جنوری2024 سے ابتک6.004 گیگا واٹ صلاحیت کی بیٹریاں امپورٹ کی گئیں
اسلام آباد(آئی این پی )ملک میں نیٹ بلنگ قوانین کے نفاذ کے بعد شہریوں نے متبادل حل نکال لیا اور سولر سے بجلی نیشنل گرڈ بیچنے کے بجائے بیٹریزمیں اسٹورکیے جانے کا رحجان بڑھ گیا ہے جس سے حکومت کے لیے نئی مشکل کھڑی ہوگئی۔پاکستان بیٹریز امپورٹ مارکیٹ کی رپورٹ کے مطابق جنوری 2024 سے ابتک6.004 گیگا واٹ صلاحیت کی بیٹریاں امپورٹ کی گئیں، اپریل 2026 میں سب سے زیادہ652.2 میگاواٹ صلاحیت کی بیٹریاں امپورٹ کی گئیں۔رپورٹ کے مطابق ماہ کے دوران پاکستانی شہریوں نے بیٹریز میں 126 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی، ملک میں سولر کے علاوہ کل پیداواری صلاحیت 39 ہزار میگا واٹ ہے۔ پاکستان میں کل پیداواری صلاحیت کا 18 فیصد تک ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نقصانات ہیں