مجموعی متاثرین میں 58 فیصد لڑکیاں، 42 فیصد لڑکے تھے:اعداد و شمار جاری
لاہور (آئی این پی )پاکستان میں بچوں کے ساتھ زیادتی اور اغوا سمیت دیگر جرائم کے اعداد و شمار جاری کردئیے گئے جس میں پنجاب سرفہرست ہے۔بچوں کے تحفظ کے لئے کام کرنے والی تنظیم ساحل نے جنوری سے جون 2026 کے دوران بچوں کے خلاف جرائم سے متعلق اپنی ششماہی رپورٹ جاری کر دی، جو مختلف قومی اور علاقائی اخبارات اور دیگر ذرائع ابلاغ سے حاصل کردہ اعداد و شمار پر مبنی ہے۔ رپورٹ میں چاروں صوبوں، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے واقعات شامل کیے گئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ملک بھر سے مجموعی طور پر 1914 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں 49 ایسے نومولود بھی شامل تھے جنہیں سڑک کنارے چھوڑ دیا گیا تھا۔جنوری تا جون 2026 کے دوران واقعات پر مبنی اس رپورٹ میں 1015 بچوں کے جنسی استحصال، 558 اغوا، 101 گمشدگی اور 35 کم عمر شادیوں کے کیسز درج کیے گئے ہیں، جبکہ 98 ایسے واقعات بھی ریکارڈ ہوئے جن میں جنسی زیادتی کے بعد پورنوگرافی کی گئی۔اعداد و شمار کے مطابق مجموعی متاثرین میں 58 فیصد لڑکیاں اور 42 فیصد لڑکے تھے۔ عمر کے لحاظ سے 11 سے 15 سال کے 598 بچے سب سے زیادہ متاثر ہوئے، جبکہ 16 سے 18 سال کے 356 بچے، 6 سے 10 سال کے 329 اور 5 سال تک کے 95 بچے متاثرین میں شامل تھے