ریاست اور بندوق

محمد تسنیم رضا
آئے روز اداروں  کی کارروائی میں کوئی نہ کوئی ملزم مارا جاتا ہے، اس کے بعد بیان یہ جاری ہوتا ہے کہ ’’ملزم کو پیش کرنے کے لیے لے جایا جا رہا تھا کہ راستے میں ملزم کے ساتھیوں نے اْسے چھڑانے کی کوشش میں فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں ملزم اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا‘‘۔ یہ ایک ایسا معتبر اور مؤثر بیان ہے جو برسوں سے تبدیل نہیں ہوا۔ اب تو یہ بیان عوام و خواص میں ایسی قبولیت حاصل کر چکا ہے کہ جونہی کسی ادارے کی حراست میں کوئی ملزم ہلاک ہوتا ہے سب جان جاتے  ہیں کہ ’’ملزم اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ‘‘ سے مارا گیا ہوگا۔ حیرت انگیز اتفاق ہے کہ ہر بار ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں کا شکار ہوتے ہیں، انھیں حراست میں رکھنے والوں کو زیادہ تر کیسز میں گولی چھوتی تک نہیں اور وہ سیدھی اسی ملزم کے سینے میں پیوست ہوتی ہے جس کے سینے میں ہونا ’’مقدر‘‘ ہوتا ہے۔
اللہ ہی جانتا ہے کہ  گولی چلانے والے قانون کے رکھوالے ہر بار محفوظ کیسے رہتے ہیں؟ اور ایسا  کیوں نہیں ہوتا کہ اپنی حراست میں موجود کسی انسان کو زندہ عدالت تک پہنچایا جائے اور اْس پر جرم ثابت کرنے کی ذمہ داری ادارے نبھائیں؟ جواب سیدھا  لیکن  تلخ ہے: موت سب سے ا?سان انصاف ہے، اور بظاہر سب سے مؤثر بھی۔ نہ عدالت کا جھنجھٹ، نہ وکیل، نہ گواہی، نہ برسوں تک چلنے والی پیشیاں — ایک گولی اور فائل بند۔
عوام نے بھی یہ سبق بخوبی سیکھ لیا ہے۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ ریاست ’’فوری انصاف‘‘ فراہم کرتی ہے اور مجرم کو سڑک پر ہی موت دے دیتی ہے، تو عوام بھی وہی راستہ اختیار کرتے ہیں۔ کبھی کسی جیب کترے کو پکڑ کر پیٹ پیٹ کر مار دیا جاتا ہے، کبھی کسی مذہبی الزام پر مشتعل ہجوم اینٹیں مار مار کر کسی کی جان لے لیتا ہے۔ سیالکوٹ کے وحشت ناک واقعے سے لے کر سرگودھا کے ہجوم تک، لوگوں نے گلیوں کو عدالت اور خود کو جلاد بنا لیا ہے۔ تاثر یہی ہے کہ عدالتیں بے بس ہیں، مقدمات لا متناہی ہیں، انصاف مہنگا ہے اور قانون صرف طاقتور کے لیے ہے۔ لہٰذا عوام سمجھتے   ہیں: ’’اگر ریاست گولی سے انصاف کر سکتی ہے تو ہمیں اینٹ اور لاٹھی سے روکنے کا حق کس کو ہے؟‘‘
یوں ہجوم اور ریاست کے درمیان ایک خوفناک اشتراکِ عمل وجود میں آ گیا ہے۔ ایک طرف وردی پہنے افراد گولی چلا کر انصاف بانٹتے ہیں، دوسری طرف عوام ہاتھوں میں لاٹھی، ڈنڈے اور موبائل کیمرے لیے ’’فیصلہ‘‘ سنا دیتے ہیں۔ دونوں کو معلوم ہے کہ ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں، کوئی عدالت ان کے سامنے نہیں آئے گی، کوئی تحقیقاتی ادارہ ان پر ہاتھ نہیں ڈالے گا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قانون کی موت واقع ہوتی ہے، مگر اس موت پر نہ کوئی فاتحہ پڑھی جاتی ہے اور نہ کوئی آنسو بہاتا ہے۔
زیادہ خوفناک بات یہ ہے کہ پولیس مقابلوں کی صنعت اب صرف ’’انصاف‘‘ کے لیے استعمال نہیں ہوتی بلکہ بدعنوانی، زمینوں پر قبضوں، ذاتی دشمنیوں اور سیاسی وفاداریوں کے فیصلہ کن ٹول کے طور پر بھی اختیار کی جا چکی ہے۔ جس کا کوئی پرسان حال نہ ہو، اسے اٹھانا، اس پر ’’دہشت گرد‘‘ یا ’’ڈاکو‘‘ کا لیبل لگانا اور پھر ایک شاٹ لگا کر مقابلے کی جھوٹی روداد جاری کرنا دنیا کا سب سے آسان کام بن چکا ہے۔ آپ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں  نقیب اللہ محسود کا قتل ہو، رائو انوار جیسے افسروں کا کردار ہو یا کسی وڈیرے کا غصہ  جب عزت و جان کا فیصلہ بندوق 
سے ہونے لگے تو پھر فائلوں سے انصاف نکل جاتا ہے، بندوق سے خوف پیدا ہوتا ہے، اور اسی خوف کو ریاست اپنی رٹ کا نام دیتی ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ آیا یہ واقعی رٹ ہے یا محض خوف؟ چنانچہ جوں جوں ریاست انصاف کی فراہمی میں ناکام ہوتی گئی، عوام میں بھی قانون سے توقعات ختم ہونے لگیں۔ انہیں کہیں سے امید نہ ملی کہ عدالتیں مجرم کو سزا دیں گی یا بے گناہ کو چھڑائیں گی، چنانچہ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ بھی انصاف کو اپنے ہاتھ میں لیں۔ اس ذہنیت نے ہمیں جنگل کے اْس در پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ’’جس کی لاٹھی اْس کی بھینس‘‘ محاورہ نہیں، حقیقت بن چکا ہے۔
ایسے ماحول میں انصاف ایک ناقابلِ رسائی تصور نظر آنے لگتا ہے۔ جب قانون کمزور اور خوف مضبوط ہو تو معاشرہ خود بخود جرائم کی آماجگاہ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ریاست تو چاہتی ہے کہ عوام اس کی طاقت سے خوفزدہ رہیں، مگر جب خوف ہی واحد قوتِ نافذہ بن جائے تو پھر شہریوں اور مجرموں کے درمیان لکیر دھندلی ہونے لگتی ہے۔ وہی عوام جو آج ڈاکو کو پیٹ پیٹ کر مارتے ہیں یا کسی شخص کو  جلادیتے ہیں، کل کسی معمولی جھگڑے میں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بھی ہو سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسی اجتماعی تباہی کی طرف سفر ہے جس کا راستہ بھی بیرحم ہے اور انجام بھی ہولناک۔
بدقسمتی سے ریاستی ادارے اس مسئلے کی سنگینی کو تسلیم کرنے کے بجائے اسے اپنی ’’قانونی حکمتِ عملی‘‘ کا مرکزی جزو سمجھ بیٹھے ہیں۔ اگر اْن کی نظر میں جرم اور مجرم کا فیصلہ گولی کی آواز سے ہونا جائز ہے تو پھر ریاست کو چاہیے کہ وہ اس پورے عمل کو قانونی حیثیت دینے کے لیے پارلیمنٹ سے باقاعدہ قانون منظور کرائے — یہ اعلان کر دیا جائے کہ تفتیش، عدالت، وکیل، شواہد، اور آئیں سب غیر ضروری ہو چکے ہیں؛ اب ہر مشتبہ شخص کو بغیر ثبوت مار دینا ہی اصل ’’ریاستی انصاف‘‘ ہوگا۔   کم از کم ہم یہ مغالطہ تو چھوڑ دیں کہ ہم کسی جمہوری، قانونی اور مہذب ریاست میں رہتے ہیں۔ لیکن اگر یہ تصور اس حد تک کھلا اعلان کرنے کے لیے ریاست کو شرم دلاتا ہے تو پھر سوال یہی بنتا ہے کہ آخر وہ پردے میں رہ کر ایسا غیرتحریری قانون کیوں نافذ کیے ہوئے ہے؟
اس مسء￿ لے کااصل حل تبھی ممکن ہے جب ریاست خود فیصلہ کرے کہ آیا وہ بندوق کی عمل داری چاہتی ہے یا آئین کی سر بلندی۔ اگر واقعی ریاست اپنے شہریوں کو قانون کی عمل داری کا یقین دلانا چاہتی ہے تو پھر صرف پولیس ریسپانس اور کاؤنٹر ٹیررزم کارروائیوں میں اپ گریڈ کافی نہیں ہوگا؛ اسے عدالتی اصلاحات، آزادانہ تفتیشی نظام، اور سیاسی مداخلت سے پاک پراسیکیوشن سسٹم دینا ہوگا۔ ہر ماورائے عدالت ہلاکت پر خودکار عدالتی تحقیقات ہوں، ہر مقابلے کی نگرانی آزاد جوڈیشل کمیشن کرے، اور ہر ہجوم کے ہاتھوں قتل پر ایسی فوری اور کھلی سزائیں ملیں کہ لوگ دوبارہ کسی کو سرعام مارنے سے گھبرائیں۔
عدالتیں اگر واقعی انصاف کا استعارہ ہیں تو پھر انھیں فیصلہ کرنے والی اتھارٹی محسوس بھی ہونا چاہیئے۔ جب تک لوگ دیکھتے رہیں گے کہ طاقتور شخص چند منٹ میں بری ہو جاتا ہے اور کمزور برسوں جیلوں میں سڑتا ہے تو وہ قانون سے نہیں بلکہ اپنی اینٹ سے کام لینا صحیح سمجھیں گے۔ انصاف میں تاخیر دراصل ناانصافی ہی ہوتی ہے، لیکن گولی سے دیا جانے والا فوری ’’انصاف‘‘ اس سے بھی بدتر ہے، کیونکہ وہ انصاف کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیتا ہے۔اب سوال یہ نہیں  اداروں  نے کس کو مارا، کس کو گرفتار کیا، یا کس کو چھوڑا۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر ریاست اور عوام دونوں انصاف کو گولی سے تعبیر کرنے لگ گئے ہیں تو پھر کل کو اس گولی کا رخ کس کی طرف ہوگا؟ اگر ہم واقعی قانون کی حکمرانی والے معاشرے میں رہنا چاہتے ہیں تو ہمیں بندوق کی گولی کے ’’دستور‘‘ سے نکل کر عدالت کی کرسی کے ’’آئین‘‘ کی طرف لوٹنا ہوگا