متحدہ عرب امارات اور ایران کے درمیان کشیدگی سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو ایک بار پھر غیر یقینی بنا دیا ہے۔
تازہ رپورٹس کے مطابق اماراتی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک پر مسلسل دوسرے دن میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے، تاہم ان حملوں کے ذمہ دار کے طور پر ایران کا نام لیا گیا جسے تہران نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے واضح بیان دیا ہے کہ حالیہ دنوں میں متحدہ عرب امارات کے خلاف کسی قسم کی فوجی کارروائی نہیں کی گئی، اور اگر ایسا کوئی اقدام ہوتا تو اس کا باقاعدہ اعلان کیا جاتا۔ اس بیان میں الزامات کو "بے بنیاد اور سیاسی پروپیگنڈا" قرار دیا گیا۔اماراتی حکام کے مطابق پیر کے روز ہونے والے مبینہ حملے میں تین افراد زخمی ہوئے، جبکہ فجیرہ میں واقع ایک اہم تیل کی تنصیب پر ڈرون گرنے سے آگ بھڑک اٹھی۔ تاہم منگل کے روز ہونے والے مبینہ حملے کے نقصانات کی مکمل تفصیل ابھی سامنے نہیں آ سکی، جس کے باعث صورتحال مزید غیر واضح ہے۔رپورٹس کے مطابق یہ تناؤ ایسے وقت میں بڑھا ہے جب خطے میں پہلے ہی سمندری راستوں، خصوصاً آبنائے ہرمز کے اردگرد کشیدگی موجود ہے۔ اسی تناظر میں ایران اور اس کے مخالفین کے درمیان الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ جاری ہے، جس نے عالمی توانائی منڈی کو بھی متاثر کیا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد خطے میں ردعمل مزید سخت ہوا ہے، اور اسی کشیدگی کے باعث تیل اور گیس کی عالمی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس صورتحال میں عالمی منڈی پہلے ہی غیر مستحکم ہے اور ہر نئی پیش رفت فوری اثر ڈال رہی ہے۔دوسری جانب اطلاعات یہ بھی ہیں کہ امریکا نے ایران کے خلاف بحری سطح پر نئی پابندیوں اور نگرانی کے اقدامات میں اضافہ کیا ہے، جبکہ بعض رپورٹس میں محدود جھڑپوں کا بھی ذکر ہے۔ تاہم امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ کشیدگی کے باوجود کسی بڑی جنگ بندی کو باضابطہ طور پر ختم نہیں کیا گیا۔
مجموعی طور پر صورتحال اس وقت انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں الزامات، تردیدیں اور عسکری نقل و حرکت ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں، اور خطے میں کسی بھی غلط فہمی یا اشتعال انگیزی کے نتیجے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ موجود ہے۔