اسلام پورہ کے علاقے میں طالبات کو ہراساں کرنے کا ایک نہایت افسوسناک اور تشویشناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں موٹر سائیکل سوار اوباش نوجوان نے دن دہاڑے مین روڈ پر دو طالبات کو نشانہ بنایا اور پھر ان کا گلی تک تعاقب کرتے ہوئے چھیڑ خانی کی۔
واقعے نے نہ صرف اہلِ علاقہ بلکہ والدین میں بھی خوف و غصے کی لہر دوڑا دی ہے، جبکہ خواتین اور طالبات کے تحفظ سے متعلق سنجیدہ سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔پولیس کے مطابق ملزم واردات کے فوراً بعد موقع سے فرار ہو گیا، تاہم علاقے میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے واقعے کی فوٹیج حاصل کر لی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دستیاب ویڈیو میں ملزم کا چہرہ، حرکات و سکنات اور موٹر سائیکل واضح طور پر نظر آ رہے ہیں، جس کی بنیاد پر اس کی شناخت کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ذرائع کے مطابق کیس کی حساس نوعیت کے پیش نظر پولیس اور سی سی ڈی (Crime Control Department) نے مشترکہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی، ویڈیو اینالسز، موٹر سائیکل ٹریسنگ اور جیو فینسنگ جیسے ذرائع استعمال کیے جا رہے ہیں تاکہ ملزم تک جلد رسائی حاصل کی جا سکے۔
واقعے کا مقدمہ متاثرہ طالبہ کے والد کی مدعیت میں درج کر لیا گیا ہے، جس میں ہراسگی، تعاقب اور طالبات کے خوف و ہراس پھیلانے کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور قوی امید ہے کہ اسے جلد قانون کی گرفت میں لے لیا جائے گا۔
اس واقعے کے بعد لاہورکے شہری حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی صارفین کی بڑی تعداد نے سوال اٹھایا ہے کہ تعلیمی اداروں میں آنے جانے والی طالبات اگر دن کے اوقات میں بھی محفوظ نہیں تو یہ صورتحال انتہائی خطرناک ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ صرف اس ایک ملزم کی گرفتاری کافی نہیں بلکہ ایسے اوباش عناصر کے خلاف مستقل اور نمایاں پولیسنگ کی ضرورت ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات میں فوری گرفتاری اس لیے بھی ضروری ہوتی ہے تاکہ نہ صرف متاثرہ خاندان کو انصاف ملے بلکہ معاشرے میں یہ پیغام جائے کہ خواتین اور طالبات کو ہراساں کرنے والوں کے لیے کوئی رعایت نہیں۔ پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ملزم جلد گرفتار ہوگا اور کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔