اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے امور داخلہ کا اجلاس مسلم لیگ (ن) کے خرم نواز کی زیر صدارت منعقد ہوا، جہاں دو اہم بلز پر تبادلہ خیال کیا گیا:
خواتین کو وراثت کا حق دینے پر عملدرآمد نہ ہونے کی سزا کا بل
صوفیہ سعید کی تجویز:
اجلاس میں صوفیہ سعید نے تجویز پیش کی کہ خواتین کو وراثت کا حق دینے کے عدالتی فیصلے پر 120 دن کے اندر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں 6 ماہ قید کی سزا تجویز کی جائے۔
حکومتی اعتراض:
حکومت نے اعتراض کیا کہ سزا کو سول قوانین میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ وزارت قانون نے تجویز دی کہ سول قوانین کو مضبوط کر کے خواتین کے وراثتی حقوق کا تحفظ کیا جا سکتا ہے۔
فیصلہ:
کمیٹی نے صوفیہ سعید اور وزارت قانون کو بل پر اعتراضات کا حل نکالنے کے لیے مشاورت کی ہدایت دی۔
چائلڈ کورٹس کے قیام کا بل منظور
بل پیش کرنے والی رکن:
مسلم لیگ (ن) کی رکن اسمبلی نوشین افتخار نے بچوں سے زیادتی کے مقدمات کے لیے چائلڈ کورٹس کے قیام کا بل پیش کیا۔
بل کی خصوصیات:ریپ کے شکار بچوں سے بیان ماہر نفسیات کی موجودگی اور اچھے ماحول میں ریکارڈ کیا جائے گا۔
مقدمات کا فیصلہ 6 ماہ کے اندر کرنا لازم ہوگا۔
زرتاج گل کا مؤقف:
زرتاج گل نے بچوں سے زیادتی کے مقدمات میں مؤثر سزائیں نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا اور سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
نتیجہ:
کمیٹی نے بل کو اتفاق رائے سے منظور کر لیا۔
اجلاس کی اہمیت:
اجلاس میں خواتین کے وراثتی حقوق اور بچوں کے تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے قانونی اصلاحات پر اہم پیش رفت کی گئی۔ ان بلز کا نفاذ سماجی انصاف اور تحفظ کے لیے ایک اہم قدم ہوگا۔