لاہور(سپورٹس ڈیسک)سابق انگلش کپتان مائیکل اتھر ٹن نے بھی عالمی کرکٹ میں بڑھتی ہوئی سیاسی مداخلت پر آئی سی سی اور بی سی سی آئی کو شدید تنقید کا نشانہ بنا تے ہوئے کہا ہے کہ کہ بنگلا دیش کا ورلڈکپ اور پاکستان کا بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ ایک بڑے بحران کی طرف بڑھ رہی ہے۔ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے مائیکل اتھرٹن نے کہا کہ کرکٹ کو دنیا کا دوسرا بڑا کھیل کہا جاتا ہے اور اعداد و شمار اس کی تصدیق بھی کرتے ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس کھیل کی اصل روح اور دلچسپی جنوبی ایشیا میں پائی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات یہ ہیں کہ بھارت پاکستان نہیں جاتا، پاکستان بھارت نہیں جاتا اور اب بنگلا دیش نے بھی بھارت جانے سے انکار کر دیا ہے۔ جس کے باعث عالمی ٹورنامنٹس بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔مائیکل اتھرٹن نے کہا کہ عالمی ایونٹس مخصوص مقامات تک محدود ہو چکے ہیں۔ اور اس کے منفی اثرات اب کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ دو بڑی ٹیموں کا ایک دوسرے کے خلاف نہ کھیلنا عالمی کرکٹ کے لیے نہایت افسوسناک اور خطرناک صورتحال ہے۔مائیکل اتھرٹن نے کہا اس تمام بحران کی بنیاد اس وقت پڑی جب بھارت نے چیمپئنز ٹرافی کے لیے پاکستان جانے سے انکار کیا۔ اور بعد ازاں اسے دبئی میں کھیلنے کی خصوصی اجازت دی گئی، جو ماضی میں کسی اور ٹیم کو نہیں ملی۔اتھرٹن نے کہا کہ اب جب بنگلا دیشی حکومت نے اپنی ٹیم کو بھارت جانے سے روکا ہے تو وہ بھی وہی سلوک چاہتی ہے۔ جو بھارت کو دیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ چیمپئنز ٹرافی کے فیصلے سے لے کر مستفیض الرحمان کے معاملے تک، یہ تمام واقعات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں،