عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں گر گئیں

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں گر گئیں

عالمی منڈی میں جمعرات کے روز خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی، کیونکہ سرمایہ کار ایران اور عمان کے درمیان جاری مذاکرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

 امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ ان مذاکرات کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان کئی ماہ سے جاری کشیدگی میں کمی اور آبنائے ہرمز کی بحالی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔برینٹ خام تیل کی قیمت 37 سینٹ (0.5 فیصد) کمی کے بعد 79.08 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 53 سینٹ (0.7 فیصد) گر کر 74.69 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔ماہر اقتصادیات یوکی تاکاشیما کے مطابق ایران اور عمان مذاکرات میں پیش رفت کی اطلاعات کے بعد مارکیٹ میں فروخت کا رجحان بڑھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تیل کی قیمتیں تقریباً اسی سطح پر واپس آ گئی ہیں جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان عبوری امن معاہدے کے بعد تھیں، جبکہ سرمایہ کار اب حتمی معاہدے کے منتظر ہیں۔رائٹرز کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت ایران کو آبنائے ہرمز سے خلیج میں داخل ہونے والے بحری جہازوں کی نگرانی میں کردار دیا جا سکتا ہے، تاہم امریکی حکومت کی جانب سے اس حوالے سے فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ امریکہ پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ وہ اس اہم عالمی توانائی گزرگاہ پر ایران کے مکمل کنٹرول کی حمایت نہیں کرے گا۔

دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کی سرزمین پر دوبارہ امریکی حملہ ہوا تو خطے کے اہم توانائی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ادھر ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثی گروپ نے سعودی عرب کے ساحلی شہر ینبع کے قریب بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں سعودی آئل ٹینکروں پر میزائل حملوں کا دعویٰ کیا ہے، تاہم سعودی حکام نے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی۔ماہرین کے مطابق بحیرہ احمر میں سیکیورٹی خدشات اور حوثیوں کے ممکنہ حملوں کے باعث عالمی تیل کی منڈی میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔دریں اثنا، امریکی محکمہ توانائی کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکہ میں خام تیل کے ذخائر 25 لاکھ بیرل بڑھ کر 407 ملین بیرل ہو گئے، جبکہ ماہرین کو 15 لاکھ بیرل کمی کی توقع تھی۔ ذخائر میں اضافے کی وجہ ریفائنریوں کی جانب سے خام تیل کی پراسیسنگ میں کمی اور درآمدات میں اضافہ قرار دیا گیا ہے۔