روانڈا میں افغان لڑکیوں کے لیے تعلیمی ادارہ قائم

روانڈا میں افغان لڑکیوں کے لیے تعلیمی ادارہ قائم

طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں نوعمر لڑکیوں کی ثانوی تعلیم پر پابندی عائد ہے۔

 ایسے میں افغان لڑکیوں کی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے بیرونِ ملک بھی کوششیں کی جا رہی ہیں۔اسی سلسلے کی ایک مثال روانڈا میں قائم افغان لڑکیوں کے اسکول کی ہے، جو ایک بار پھر کھول دیا گیا ہے۔ اسکول کی ڈائریکٹر شبانہ بسیج راشیخ نے اس اقدام پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس موقع پر انتہائی مشکور ہیں۔انہوں نے بتایا کہ 2021 میں طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد لاکھوں افغان لڑکیوں کے لیے تعلیم کے مواقع ختم ہوگئے۔ ان کے مطابق اس وقت سب سے پہلے اسکول کا تمام ریکارڈ جلا دیا گیا تاکہ طالبان طلبہ، والدین یا عملے کے بارے میں معلومات حاصل نہ کر سکیں۔شبانہ بسیج راشیخ نے اسکول کی ویب سائٹ پر لکھا کہ طالب علموں کے نام، ان کی کہانیاں اور شناخت سمیت تمام ریکارڈ آگ میں جلا دیے گئے تاکہ انہیں محفوظ رکھا جا سکے۔سولا اسکول (School of Leadership, Afghanistan) کو افغانستان میں لڑکیوں کے لیے ملک کا واحد بورڈنگ اسکول قرار دیا گیا تھا۔ تاہم طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد اسکول کی ڈائریکٹر سمیت سینکڑوں طالب علموں میں سے بہت سے اپنے وطن سے نقل مکانی کرچکے ہیں۔