امجد علی
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا
دنیا بظاہر رنگینیوں، چمک دمک اور دلکشی سے لبریز دکھائی دیتی ہے، مگر حقیقت کی آنکھ سے دیکھا جائے تو یہی دنیا اکثر ظلم، ناانصافی اور بداعمالیوں کی داستان سناتی نظر آتی ہے۔ فطرت کا اصول بڑا واضح ہے، اصل ہمیشہ غالب ہوتی ہے اور فالتو یا ضائع ہونے والا حصہ کم۔ پھل ہو یا غلہ، اس کا مغز زیادہ ہوتا ہے اور کچرا یا چھلکا کم۔ مگر انسان کے معاملے میں یہ توازن الٹ چکا ہے، یہاں دکھاوا، دعوے اور الفاظ زیادہ ہیں، جبکہ اخلاص، عمل اور کردار کم ہوتے جا رہے ہیں۔
اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے افراد کو ہی دیکھ لیجیے۔ اقتدار سے پہلے ان کی زبانوں پر خدمت، خلوص، غریب پروری اور انسان دوستی کے چرچے ہوتے ہیں، مگر کرسی ملتے ہی وہی زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں، وعدے محو ہو جاتے ہیں اور حقیقت اپنی خوفناک صورت میں سامنے آتی ہے۔ چشم فلک گواہ ہے کہ اکثریت خسارے میں ہے، ایسے لوگ جو اپنے ظلم، فریب اور لوٹ مار پر مبنی اعمال کو بھی نہ صرف درست سمجھتے ہیں بلکہ انہیں باعث فخر گردانتے ہیں۔ اعلیٰ کردار کے حامل افراد اس ہجوم میں کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔
تعلیمی اداروں کا منظر بھی کچھ مختلف نہیں۔ کلاسیں بھری ہوتی ہیں، مگر حقیقی کامیابی چند افراد تک محدود رہتی ہے۔ یہی حال ہر ادارے اور ہر شعبے کا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ نیت ہے۔ نیت دراصل ایک بیج ہے، اور انجام اس کے بیج سے اگنے والے پودے کا پھل۔ پاکیزہ نیت سے خوشبودار پھول اور شیریں پھل جنم لیتے ہیں، جبکہ فاسد نیت کانٹوں بھری جھاڑیوں کو جنم دیتی ہے۔ نام کچھ بھی رکھ لیا جائے، ابلیس، فرعون یا ہلاقو خان، حقیقت اپنی جگہ قائم رہتی ہے۔
فطرت کا اٹل قانون ہے کہ انسان جس کے لیے کوشش کرتا ہے اسے اسی کے مطابق صلہ ضرور ملتا ہے۔ انسان ظاہر اور باطن کا مجموعہ ہے، اسی طرح اس کی محنت بھی دو پہلو رکھتی ہے۔ جو شخص خیر، حسن اور پاکیزگی سے وابستہ ہو، تو وہ محنت اور نیک نیتی دونوں سے وابستہ ہوا۔ وہ صرف مادی فائدہ ہی نہیں بلکہ روحانی خوشبو بھی سمیٹتا ہے۔ اور جو فریب، جھوٹ اور دھوکہ دہی کو اپنا شعار بنا لے، محنت وہ بھی کر رہا ہے مگر اخلاق و قانون کے برعکس۔ وہ بظاہر وقتی فائدہ تو اٹھا لے گا مگر اس کا باطن تعفن سے بھر جاتا ہے۔ ایسے عمل کو مسلسل کرنے سے انسان کی داخلی قوت حس مفلوج ہو جاتی ہے، یہاں تک کہ وہ حق و باطل، اچھائی برائی، نیکی بدی، گناہ ثواب میں تمیز کھو بیٹھتا ہے، دراصل اسی کو دلوں پر مہر لگ جانے کی کیفیت کہتے ہیں۔
اس دو رخی متضاد اعمال پر مبنی زندگی کو قرآن حکیم نہایت بلیغ انداز میں بیان کرتا ہے ‘‘ہم نے ان کے لیے ان کے اعمال مزین کر دئیے، پس وہ حیران بھٹکتے پھرتے ہیں’’ (سورۃ النمل: 4)۔
یہ آیت انسانی باطن کی کیفیت کو واضح کرتی ہے، جب انسان کے لیے اس کے اپنے بدترین اعمال بھی خوبصورت بنا دیے جاتے ہیں۔ پھر وقت کے ساتھ ساتھ سچائی کی روشنی معدوم ہو جاتی ہے اور نفس کی خواہشات ہی رہنما بن جاتی ہیں۔ بالفاظ دیگر چور چوری اور راہزنی کو ہی بہترین ذریعہ معاش سمجھ لیتا ہے اور قاتل قتل کو بہادری اور جرآت گردانتا ہے۔
اس کیفیت کو یوں سمجھا جا سکتا ہے جیسے کوئی شخص گھپ اندھیرے میں ایسا چراغ لیے چل رہا ہو جو راستہ دکھانے کے بجائے کانٹوں کو پھول اور کھائی کو ہموار زمین بنا کر پیش کرے۔ وہ جتنا آگے بڑھتا ہے، اتنا ہی گمراہی میں دھنستا چلا جاتا ہے، مگر اسے یقین ہوتا ہے کہ وہ درست راستے پر ہے۔ تاریخ میں کئی ظالم حکمران اسی فریب کا شکار رہے، ظلم کرتے رہے، اپنے اعمال کی عظمت کے چرچے بھی خوب کرواتے رہے۔ انسان ایسے فریب میں کب گرفتار ہوتا ہے یہ بھی اسی آیت کے پہلے حصے میں فرمایا، اور جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے""
اس سے مراد ہے کہ جب بندے ہو مرنا بھول جائے، اسے یقین ہو کہ حشر نہیں ہو گا یعنی کوئی حساب کتاب نہیں ہو گا استغفر اللہ قرآن میں تو بس کوئی کہانی سنائی گئی ہے خواہ مخواہ دریا گیا ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے پھر وہ آزادانہ اپنے نفس کی خواہشات کی غلامی کرتا ہے اور نفس تو ہمیشہ انسان کو گمراہی ہی سیکھاتا ہے جب وہ برائی، گناہ اور ظلم میں راسخ ہو جاتا ہے تب واپسی کے سبھی راستے بند کر دئیے جاتے ہیں اس آیت میں غالبا اسی کیفیت کا بیان کیا گیا ہے۔
قرآن کریم ایک اور مقام پر انسان کو اس کی کی ہوئی برائی سے غفلت میں پڑے رہنے سے خبردار کرتا ہے
‘‘اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کریم ؐ کی آواز سے بلند نہ کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال اکارت ہو جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو’’ (سورۃ الحجرات: 2)۔
یہاں ‘‘خبر نہ ہونا’’ محض لاعلمی نہیں، بلکہ سخت ناراضگی، اور سزاء کی علامت ہے، وہ کیفیت جب انسان اپنے اعمال کے انجام سے بے حس ہو جائے۔
صحابہ کرامؓ کا طرز عمل اس کے برعکس تھا۔ وہ اپنے اعمال کے بارے میں اس قدر حساس تھے کہ معمولی سی لغزش کا اندیشہ بھی انہیں بے چین کر دیتا۔ وہ راتوں کو سجدوں میں گر کر، اشک بہا کر اپنے رب سے مغفرت طلب کرتے، یہاں تک کہ دل کو اطمینان نصیب ہو جاتا، معافی کا پیغام موصول ہو جاتا۔ یہی حساسیت زندہ دل کی علامت ہے، آخرت پر یقین، احتساب کا شعور، اور اعمال و نتائج کے ظہور کا احساس ہے۔
اس کے برعکس، جب انسان آخرت کے تصور کو ہی نظر انداز کر دیتا ہے تو پھر اچھے اور برے کی تمیز مٹنے لگتی ہے۔ یہ آن واحد میں نہیں ہو جاتا بلکہ پہلے ہدایت دی جاتی ہے اچھے اور برے کاموں میں تفریق بتائی جاتی ہے اور اچھے کرنے اور بروں سے بچنے کی رہنمائی کی جاتی ہے۔ جب بندہ اعمال بد کرتا ہے تو وعید اور وارننگ جاری کی جاتی ہے کہ رک جاؤ ان سے بچ جاو۔ اس امر سے واقف حال ہونے کے باوجود جب وہ بے بس تنکے کی طرح اپنی بگڑی ہوئی عادات کے دریا میں بہنے لگتا ہے وہ دوسروں کو اذیت دیتا ہے، ظلم کرتا ہے مگر اسے احساس تک نہیں ہوتا۔ جب انسان اس مقام پر پہنچ جائے کہ اسے ہر برا عمل اچھا لگنے لگے، تو سمجھ لینا چاہیے کہ اس کے دل کا آئینہ دھندلا نہیں، بلکہ اندھا ہو چکا ہے۔ یعنی اس پر مہر لگا دی گئی اور ہدایت کا، پلٹ جانے کا راستہ بند کر دیا گیا۔ بیشک یہ آخری درجے کی گمراہی ہے۔ حقیقی گمراہی یہی ہے کہ انسان غلط راستے کو ہی درست سمجھنے لگے۔ یہی سب سے بڑی آزمائش ہے، ایک ایسا فریب جس میں انسان خود اپنے ہاتھوں قید ہو جاتا ہے۔ اس سے قبل کہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اس حد کو پہنچ جائے کہ ہدایت کے راستے بند کر دئیے جائیں، پلٹ جانا ممکن نہ رہے یا سب کچھ ضبط ہو جائے، تمام مقدمے، اپیلیں ختم اور سزائیں شروع ہو جائیں، ابھی بھی وقت ہے کہ انسان رک کر اپنے اعمال کا محاسبہ کرے۔ ہر رات سونے سے پہلے اپنے دن بھر کے اعمال و افعال کا جائزہ لے، نیکیوں اور برائیوں کو الگ کرے، اور آئندہ کے لیے اصلاح کا ارادہ باندھے۔ جیسے ہم اپنے گھروں کو روزانہ صاف رکھتے ہیں تاکہ وہ خوشگوار اور خوبصورت رہیں، ویسے ہی دل کی صفائی بھی ضروری ہے۔ جیسے ہم ہر روز آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر ضروری تراش خراش کر کے خود کو دلکش بناتے ہیں اسی طرز سے ہمیں خود احتسابی کے ذریعے اپنے ہر ہر گناہ اور خطاء کو تلاش کر کے اس سے بچنا ہے اور اللہ سے فوری اس کی معافی مانگنی ہے۔ ورنہ دل کچرے سے بھر جاتا ہے اور انسان اسی کو خوبصورتی سمجھ بیٹھتا ہے۔ یہ دنیا اور اسے محبوب رکھنے والے سب نظر کا دھوکا ہی تو ہے مزین کی ہوئی موجودات اور خوشنما اعمال سب فریب ہے انسان اصل کو پا لے گا جب آنکھوں سے خواب ختم ہو گا۔ جب حشر ہو گا تب آنکھ کھلے گی۔
لہٰذا خود کو بدلنے کی ضرورت ہے، آج کو سنوارنے کی، تاکہ کل سنور جائے۔ نیت کو پاک کیا جائے، عمل کو درست کیا جائے، تاکہ انجام وہ ہو جس کی آرزو ہے، ایک ایسی جنت، جو ہمیشہ کے لیے ہمارا ٹھکانہ بنے۔ اللہ ہم سب پر راضی ہو ہمارا حامی و ناصر ہو۔
آمین ثم آمین یا رب العالمین۔