کس طرح صوبے کے اکاؤنٹس میں 40 ارب روپے کی کرپشن ہوئی: فیصل کیم کنڈی

کس طرح صوبے کے اکاؤنٹس میں 40 ارب روپے کی کرپشن ہوئی: فیصل کیم کنڈی

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے کے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کے اکاؤنٹس میں 40 ارب روپے کی کرپشن کا سوال اٹھا رہے ہیں اور یہ معاملہ نیب کی خاموشی کی وجہ سے چھپ گیا ہے۔

پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اگر یہ معاملہ پاکستان پیپلز پارٹی سے متعلق ہوتا تو نیب فوراً ایکشن لیتا اور گرفتاری کے بعد مقدمہ ثابت کیا جاتا۔فیصل کریم کنڈی نے مزید کہا کہ ڈی آئی خان میں 55 کروڑ روپے کے ہارس اینڈ کیٹل شو کا انعقاد کیا گیا، لیکن ان پیسوں کا استعمال کس مقصد کے لیے کیا گیا ہے، یہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ اس کا آڈٹ کیوں نہیں کیا گیا اور پیسوں کے استعمال پر تحقیق کیوں نہیں کی گئی۔

گورنر خیبر پختونخوا نے 9 مئی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان میں ملوث افراد کو سزا ملنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ ساتھ اسٹیٹس آف ویمن کی چیئرپرسن کی غیر موجودگی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ صوبائی حکومت کو اس اہم معاملے پر توجہ دینی چاہیے۔فیصل کریم کنڈی کی ان بیانات کے ذریعے خیبر پختونخوا حکومت پر کرپشن، گورننس کی کمی اور خواتین کے حقوق کے لیے مناسب اقدامات نہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے، جس سے صوبے کی موجودہ حکومت کے اقدامات پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔