تقویٰ اختیار کرنا ایمان والوں کی شان ہے: خطبہ حج

تقویٰ اختیار کرنا ایمان والوں کی شان ہے: خطبہ حج

مسجد نمرہ :مسجد الحرام کے امام شیخ ڈاکٹر صالح بن عبد اللّٰہ نے حج کے دوران اپنے خطبے میں ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے، تقویٰ اختیار کرنے اور نیکیوں میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے کی تاکید کی۔

 انہوں نے فرمایا کہ تقویٰ ایمان والوں کی شان ہے اور اللہ کی عبادت ایسے کرو جیسے تم اللہ کو دیکھ رہے ہو یا یقین رکھو کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔شیخ صالح بن عبد اللّٰہ نے حجاج کرام کو نصیحت کی کہ لوگوں کے ساتھ صلح رحمی کے ساتھ پیش آؤ اور دشمنوں کو معاف کر دو، کیونکہ دشمن کی معافی اللہ کے قریب ہونے کا ذریعہ بنتی ہے۔ انہوں نے قرآن مجید کی آیات کی روشنی میں کہا کہ اللہ نے نیکی کرنے اور برائی سے بچنے کا حکم دیا ہے اور شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے، اس سے بچو۔انہوں نے مزید کہا کہ نیکیوں سے برائیاں مٹ جاتی ہیں، اس لیے نماز کی حفاظت کریں کیونکہ یہ اللہ اور بندے کے درمیان بہترین رابطہ ہے۔ باطنی امراض سے بچاؤ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ رمضان کے روزے انسان کو اندرونی بیماریوں سے پاک کرتے ہیں۔امام مسجد الحرام نے حجاج کرام کو عہد و وعدے کی پاسداری، اچھے کلام اور صبر کرنے کی ترغیب دی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ شکر گزار بندوں کو انعامات سے نوازتا ہے اور دین اسلام کو اللہ نے مکمل کر دیا ہے، اس لیے اس کی مضبوطی اور اطاعت ضروری ہے۔انہوں نے ایمان کی مختلف شاخوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ لا الہ الا اللہ کہنا ایمان کا اعلیٰ درجہ ہے، اور حسن سلوک، والدین کی خدمت، نرمی اور وعدوں کی تکمیل ایمان کا حصہ ہیں۔

امام مسجد الحرام نے دنیا و آخرت کی بھلائی، جہنم سے نجات اور گناہوں کی معافی کی دعا کی تلقین کی۔ انہوں نے فساد فی الارض سے سختی سے منع کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کے سوا کسی اور معبود کی پوجا نہ کی جائے ورنہ سخت سزا ملے گی۔خطبہ حج کے بعد ظہر اور عصر کی قصر نمازیں ایک ساتھ ادا کی گئیں۔ عرفات میں حجاج کرام دعائیں، تلبیہ، استغفار اور تسبیح میں مصروف رہے۔عرفات سے روانگی کے بعد حجاج مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کریں گے اور رات کو قیام کے دوران رمی جمرات کے لیے کنکریاں جمع کریں گے۔ منیٰ میں رمی اور قربانی کا فریضہ انجام دیا جائے گا۔ادارہ امور حرمین کے سربراہ نے بتایا کہ حج کے خطبے کا ترجمہ 35 زبانوں میں کیا گیا ہے تاکہ تمام عازمین حج اسے سمجھ سکیں۔ عبادت کے لیے مسجد الحرام کے 1,25,000 مربع میٹر رقبے میں آرام دہ قالین بچھائے گئے ہیں، اور ماحول کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے 117 پھوار والے پنکھے نصب کیے گئے ہیں، جو درجہ حرارت میں اوسطاً 9 ڈگری سینٹی گریڈ کمی کرتے ہیں۔