مکہ مکرمہ: مسجد نمرہ میں 9 محرم الحرام کو حج 2025 کا خطبہ دیتے ہوئے امامِ کعبہ شیخ ڈاکٹر صالح بن عبداللہ بن حمید نے اہلِ اسلام کو فساد فی الارض سے دور رہنے، تقویٰ اپنانے، نماز قائم کرنے، باطنی امراض سے بچنے اور والدین سے حسنِ سلوک کی تلقین کی۔
فساد فی الارض سے بچنے کی ہدایت
امامِ کعبہ نے خطبہ حج میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین میں فساد پھیلانے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ معاشرے کی بھلائی، امن اور سلامتی اسی وقت ممکن ہے جب فرد اور قوم دونوں اللہ کے احکامات پر عمل کریں۔
شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے
شیخ ڈاکٹر صالح نے یاد دلایا کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے، اس سے ہوشیار رہو۔ اللہ نے نیکی کا حکم دیا اور برائی سے روکا ہے۔ دشمن کو معاف کرنا بھی نیکی ہے، اور نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔
وعدے پورے کرو اور اچھی بات کرو
انہوں نے اہلِ ایمان کو عہد و پیمان کی پاسداری کا حکم دیتے ہوئے کہا: "اے ایمان والو، وعدے پورے کرو، اور جب بات کرو تو اچھی بات کرو، اللہ صبر کرنے والوں کو پورا اجر عطا فرماتا ہے۔"
نماز اللہ سے قرب کا ذریعہ ہے
امامِ کعبہ نے نماز کو بندے اور رب کے درمیان بہترین رابطہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ درمیانی نماز کی خاص حفاظت کرو۔ انہوں نے حدیثِ نبوی ﷺ یاد دلاتے ہوئے کہا: "اللہ کی عبادت ایسے کرو جیسے تم اُسے دیکھ رہے ہو، یا کم از کم ایسے جیسے وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔"
روزہ: باطنی امراض کا علاج
شیخ صالح بن عبداللہ نے کہا کہ رمضان کے روزے باطنی امراض کا شافی علاج ہیں۔ روزے انسان کو غرور، حسد، ریا، اور تکبر جیسے باطنی بیماریوں سے پاک کرتے ہیں اور روحانی ترقی میں مدد دیتے ہیں۔
والدین سے صلہ رحمی کی تاکید
خطبہ میں والدین کے ساتھ حسنِ سلوک، صلہ رحمی اور ان کی خدمت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ "والدین سے ہمیشہ صلہ رحمی سے پیش آؤ اور گناہوں کی معافی اور جنت کی طلب کیا کرو۔"
تقویٰ: ایمان والوں کی شان
امامِ کعبہ نے تقویٰ کو مومن کی شناخت قرار دیا اور کہا کہ دنیا و آخرت میں کامیابی کا راستہ صرف تقویٰ ہے۔ "حیا ایمان کی شاخ ہے، اور تقویٰ ہی انسان کو فتنوں سے بچاتا ہے۔"
دین کے درجات
خطبہ حج میں انہوں نے دین اسلام کے تین درجات بیان کیے:
اسلام – ظاہری اعمال
ایمان – دل کا یقین اور عمل
احسان – عبادت ایسے جیسے اللہ کو دیکھ رہے ہو
انہوں نے فرمایا کہ ایمان کی 70 سے زائد شاخیں ہیں، جن میں سب سے اعلیٰ "لا الہ الا اللہ" کہنا ہے، جبکہ سب سے ادنیٰ راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا ہے۔