دوسری جنگ عظیم کے 3 دیوہیکل بم برآمد، 20 ہزار افراد کا انخلا

دوسری جنگ عظیم کے 3 دیوہیکل بم برآمد، 20 ہزار افراد کا انخلا

کولون: جرمنی کے شہر کولون میں دوسری جنگ عظیم کے دوران گرائے گئے تین خطرناک امریکی ساختہ بم برآمد ہونے کے بعد خوف و ہراس پھیل گیا۔

حکام نے 20 ہزار سے زائد افراد کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا۔

بم کہاں ملے؟
حکام کے مطابق یہ تینوں بم کولون کی شپ یارڈ کی کھدائی کے دوران دریافت ہوئے۔ ان میں:

ایک بم کا وزن 10 ٹن
دوسرا بم 20 ٹن
تیسرے بم کا وزن بھی کئی ٹن تھا
یہ تمام بم امریکی ساختہ تھے اور انتہائی خطرناک حالت میں موجود تھے۔

سیکیورٹی اقدامات اور انخلا
جرمن حکام نے فوری طور پر:

میوزیمز، اسکولز اور ثقافتی مقامات کو خالی کرایا
شہریوں کو سخت ہدایت دی گئی کہ وہ فوری طور پر اپنے گھروں سے نکل جائیں
پولیس نے وارننگ دی کہ انخلا سے انکار پر زبردستی گھروں سے نکالا جا سکتا ہے
بم ڈسپوزل یونٹ کی کارروائی
جرمن میڈیا کے مطابق بم ڈسپوزل عملے نے کئی گھنٹے کی مشقت کے بعد:

تینوں بموں کو محفوظ طریقے سے ناکارہ بنا دیا
آپریشن کے دوران علاقے کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا تھا
عالمی میڈیا کی توجہ
امریکی میڈیا نے بھی اس واقعے کو بھرپور کوریج دی، اور بتایا کہ:

"جرمنی میں اب بھی ہزاروں کی تعداد میں دوسری جنگ عظیم کے غیر پھٹے بم زیر زمین موجود ہو سکتے ہیں، جو مستقبل میں بھی خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔"
اہم تاریخی پس منظر
یاد رہے کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران کولون سمیت جرمنی کے کئی شہروں پر اتحادی افواج کے شدید بمباری حملے ہوئے تھے۔ ماہرین کے مطابق ہر سال جرمنی میں سینکڑوں بم زمین سے نکالے جاتے ہیں۔

 تجزیہ: یہ واقعہ نہ صرف جرمنی میں موجودہ شہری سیکیورٹی کے مسائل کو اجاگر کرتا ہے بلکہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ جنگوں کا سایہ دہائیوں بعد بھی باقی رہ سکتا ہے۔ حکام نے شہریوں کے بروقت انخلا اور بموں کو ناکارہ بنانے کے عمل کو ایک کامیاب حفاظتی مشن قرار دیا ہے۔