ٹونی بلیئر پر فلسطینی نصاب سے ’فلسطین‘ کا نام ہٹانے کا الزام، سابق برطانوی سفیر کا انکشاف

ٹونی بلیئر پر فلسطینی نصاب سے ’فلسطین‘ کا نام ہٹانے کا الزام، سابق برطانوی سفیر کا انکشاف

لندن: برطانیہ کے سابق سفیر جیریمی گرین اسٹاک نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے فلسطینی اتھارٹی سے نصابی کتب میں ’فلسطین‘ کا نام ہٹا کر اس کی جگہ یہودی اصطلاح ’سامریہ‘ استعمال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

مشرق وسطیٰ کی خبریں شائع کرنے والی ویب سائٹ مڈل ایسٹ آئی کے مطابق جیریمی گرین اسٹاک نے کہا کہ ٹونی بلیئر نے فلسطینی اتھارٹی پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تھی تاکہ اسے غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے اسرائیل کے ساتھ معاہدے میں ایک قابلِ قبول فریق کے طور پر پیش کیا جا سکے۔ڈیوڈ ہرسٹ پوڈکاسٹ کو دیے گئے انٹرویو میں سابق برطانوی سفیر نے دعویٰ کیا کہ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے یہ مطالبہ مسترد کردیا تھا۔جیریمی گرین اسٹاک کے مطابق فلسطینی تعلیمی نصاب میں ایسی تبدیلی کا مطالبہ اس بات پر سوال اٹھاتا ہے کہ ’بورڈ آف پیس‘ کن اصولوں کے تحت کام کر رہا ہے۔

دوسری جانب ٹونی بلیئر کے ترجمان نے سابق سفیر کے دعوے کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم نے ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔ترجمان نے دعوے کو ’مکمل طور پر جھوٹا اور من گھڑت‘ قرار دیا۔یوں اس معاملے میں سابق برطانوی سفیر کی جانب سے کیا گیا دعویٰ اور ٹونی بلیئر کے ترجمان کی تردید ایک دوسرے کے بالکل برعکس ہیں، اس لیے اس دعوے کو فی الحال متنازع بیان کے طور پر ہی دیکھا جا رہا ہے۔